ابنا: رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حفاظتی پشتے محکمہ آب پاشی کی کرپشن اور غفلت کے باعث ٹوٹے جبکہ سیلاب سے سولہ سو جانیں ضائع ہوئیں اور معیشت کو 855 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سیلاب میں حفاظتی پشتے ٹوٹنے کے خلاف دائر مقدمہ کی سماعت کی ، اس معاملے پر تحقیقات کیلئے قائم عدالتی کمیشن کی حتمی رپورٹ آج سپریم کورٹ میں پیش کی گئی جو 200 صفحات پر مشتمل ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اس رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد سے متعلق کل احکامات جاری کیئے جائیں گے، رپورٹ کے مطابق کچے کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر مقامی بااثر افراد قابض ہیں، توڑی بند کی کئی برسوں سے مرمت ہی نہیں ہوئی براہ راست ذمہ د اروں میں چیف انجینئر گدو، ان کا عملہ اور انچارج ایکسئن شامل ہیں ، رپورٹ کے مطابق ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی فرائض مکمل ادا کرنے میں ناکام رہی، سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ مجموعی جی ڈی پی کا 8ء 5 فیصد ہے، سیلاب سے 2 کروڑ افراد غذائی قلت کا شکار ہوئے، 35 لاکھ بچوں کی تعلیم اور 45 لاکھ افراد کا روزگار متاثر ہوا، کمیشن نے سفارش کی ہے کہ دریا کے کنارے تجاوزات کو دوبارہ تعمیر نہ ہونے دیا جائے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز