3 جون 2011 - 13:10

اشارہ: بیسویں صدی کے آخری برسوں سے دنیا میں یہ بات مشہور ہوئی کہ یہ دور مواصلات کا دور ہے چنانچہ ہم نے بھی دیکھا کہ ایسا ہی ہے اور اب جو گیارہ سال اکیسویں صدی کے بھی گذر چکے ہیں یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ اب دنیا کا کوئی واقعہ مخفی نہیں رکھا جاسکتا حتی کہ امریکی صدارتی انتخابات میں دھاندلی کو بھی چھپا کر نہیں رکھا جاسکتا لیکن اسی اثناء میں آل خلیفہ کے ایک فوجی افسر نے دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آن دی ریکارڈ حقائق کو چھپانے کے لئے جو جھوٹی داستان دنیا والوں کے گوش گذار کی ہے اور العربیہ کی سعودی ویب سائٹ نے اسے حقیقت کے عنوان سے جس طرح شائع کیا ہے وہ ہم اپنے قارئین و صارفین کی خدمت میں تبصرے کے ہمراہ پیش کررہے ہیں تا کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کون بول رہا ہے؟۔

العربیہ نے شیخ خلیفہ بن احمد آل خلیفہ کا ایک انٹرویو نشر کیا ہے اور انہیں "فیلڈ مارشل" کا رینک عطا کرتے ہوئے ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کی اہل تشیع سمیت کسی فرقے سے کوئی دشمنی نہیں اورنہ ہی انھوں نے اہل تشیع کی عبادت گاہوں کومسمارکیا ہے بلکہ وہ ملک کو انتہا پسند ریاست بنانے والوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔

پتہ نہیں آل خلیفی حکام کیا سوچ رہے ہیں کہ دنیا ساری احمق ہے اور وہ اتنی ساری مساجد کی شہادت کو بھول گئے ہیں اور مساجد کے ملبے دنیا میں کسی نے نہیں  دیکھے اور یہ کہ پوری ملت بحرین نے مظاہرے کئے ہیں اور شرپسندی تو آل خلیفیوں کا وطیرہ ہے اور فیلڈ مارشل کہلانے والے اس خلیفی افسر کو اپنے نہتے عوام کو کچلنے کے لئے بیرونی افواج اور ہزاروں کرائے کے غنڈے بلوانے پڑے ہیں اگر وہ اہل تشیع کا دشمن نہیں ہے تو اکثریت کو ان کے حقوق کیوں نہیں دیتے؟ کیا انتہاپسند بحرینی عوام ہیں جنہوں نے مدنی انداز سے اپنے حقوق مانگے ہیں یا وہ برسراقتدار خلیفی خاندان انتہاپسند ہے جس نے وہابی مفتیوں کے فتوون کے سائے میں وہابی افواج کو اہل تشیع کا قلع قمع کرنے کے لئے بلوایا ہے اور خلیفی وزیر اعظم نے انہیں باقاعدہ اعلان کرکے شہری حقوق سے محروم کیا ہے اور انہیں بھوکوں مارنے کی دھمکی دی ہے؟

شیخ خلیفہ بن احمد کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کی عدالتوں میں پھانسی کے تمام مقدمات جلد ہی اپیل عدالتوں میں منتقل کردیے جائیں گے، جس کے بعد وہ اپنی مرضی سے ملزمان کی سزاٶں کا تعین کریں گی۔

خلیفی بن احمد نے وضاحت نہیں کی ہے کہ فوجی عدالتوں میں عوام پر مقدمہ چلانے کا حق انہیں کس نے دیا ہے اور یہ اپیل عدالتیں کیا آل خلیفیوں کے زیر اثر نہیں ہیں؟

بحرین میں قیام امن کے لیے تعینات خلیجی فوج کی مزید موجودگی کے بارے میں سوال پر جنرل خلیفہ نے کہا کہ جب تک ان کے مُلک میں خلیجی فوجوں کی موجودگی ضروری ہےاس وقت تک اُنہیں یہاں تعینات رکھاجائے گا۔ تمام خلیجی ریاستوں کے درمیان باہمی فوجی تعاون اورمشترکہ سیکیورٹی کنٹرول کے سلسلے میں طے شدہ تمام معاہدوں میں بھی یہی بات مدنظررکھی گئی ہے کہ جب تک کسی ملک کو دوسری فوج کی ضرورت رہے گی تب تک وہ فوج وہاں تعینات رہے گی۔

آل خلیفی جرنیل نے یہاں بھی شاید دنیا والوں کو احمق ہی تصور کیا ہے. کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی کو معلوم نہیں ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکورٹی معاہدے کے تحت صرف اسی وقت کسی ملک میں خلیجی افواج جاسکتی ہیں جب اس ملک کو بیرونی افواج سے خطرہ ہو؟ اور کیا سعودی افواج نے اس ملک پر قبضہ کرکے عوام کو کچلنے اور آل خلیفہ خاندان کو بچانے کی کوشش نہیں کی ہے؟ کیا بحرین کا مطلب آل خلیفہ خاندان ہے؟ اگر ایسا ہے تو ملک کی آبادی کو کہاں مد نظر رکھا گیا ہے؟ کیا ملک کی آبادی پر ملک اور ریاست کا اطلاق ہوتا ہے یا حکمران خاندان یا جماعت پر؟ کیا ملکی آبادی نے خلیجی افواج کو بلوایا ہے؟ کیا کسی ملک کی آبادی کے جائز مطالبات کو کچلنے کے لئے فیلڈ مارشل کو بیرونی افواج بلوا کر شرم نہیں آئی؟ کیا وہ مزید بیرونی جارحین کو ملک میں تعینات رکھ کر شرم نہیں آرہی؟

ایک اورسوال کے جواب میں جنرل خلیفہ بن احمد نے اپنی بی شرمی اور ضعف و سستی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت کےمطابق منامہ میں تعینات جی سے سی کی افواج میں کمی بیشی کی جاتی رہے گی اور ضرورت پڑنےپرمزید فوج بھی منگوائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جولوگ بحرینی فوج پرمظاہرین کوکُچلنےکا الزام عاید کرتے ہیں وہ کبھی انتہا پسندوں کے انداز بیان کوسُننے کی بھی زحمت کریں، کس طرح یہ مٹھی بھرافراد اپنی تقریروں اوربیانات میں ملک کوانتہا پسندی کی طرف لے جاناچاہتے ہیں،یہ انتہا پسند کھلےعام قتل کی دعوت دیتے اوردہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں تاکہ بحرین کوایک ناکام اورانتہا پسند ریاست میں تبدیل کیا جاسکے۔

نام نہاد فیلڈ مارشل نے یہاں اکثریتی عوام کو مٹھی بھر انتہاپسندوں کا نام دیا ہے اور ساتھ یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ مخالفین صرف بات کرتے ہیں اور پرامن انداز سے اپنے مطالبات آگے بڑھا رہے ہیں اور ساتھ ہی انھوں نے مساجد، امامبارگاہوں اور بارگاہوں کو شہید کرنے اور وہاں انتہاپسندانہ نعرے لگوانے اور لکھونے اور آل خلیفہ خاندان کی طرف سے انتہاپسندی اور فرقہ واریت پھیلانے کی ہزاروں اعلانیہ سازشیں کرنے کا انکار کرتے ہوئے عوام کو انتہاپسندی پھیلانے کا الزام دیا ہے۔

انھوں نے عوام کو دہشت گردی کی دعوت دینے کا الزام دیا ہے لیکن دہشت گردی کی ایک واردات کی مثال دینے سے قاصر ہیں۔ وہ بیرونی افواج کو ملک میں بلوا کر عوام کو کچلنے کی تمامتر کوششیں کرنے کے باوجود اپنے آپ کو کامیاب حکومت ثابت کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ کیا بیرونی افواج کو جارحیت کی دعوت دے کر بھی آل خلیفی حکمران کامیاب حکمران سمجھی جائیں گے؟

اہل تشیع کی عبادت گاہوں کے گرائے جانے کے بارے میں ایک سوال پربحرینی فوج کے سربراہ نے وضاحت کی کہ بحرینی حکومت یا فوج کی اہل تشیع سے مخاصمت کے بارے میں تمام باتیں محض پروپیگنڈا اور افواہیں ہیں،ان میں کوئی صداقت نہیں۔ مسلح افواج اورسیکیورٹی اداروں نے ملک میں افراتفری کے خاتمے کے لیے آپریشنزکے دوران ایسی 600 عمارتوں کومنہدم کیا جنہیں غیرقانونی طورپرتعمیرکیاگیا تھا۔ان میں تمام اہل تشیع کی نہیں تھیں بلکہ اہل سُنت اوردیگرمکاتب فکرکی بھی تھیں۔ فوج نے دانستہ طورپرشہریوں پرگولیاں نہیں چلائیں، ان کی املاک تباہ کیں اور نہ ہی مقدس کتب یا قرآن کریم نذرآتش کیے ہیں۔ اس طرح کی تمام باتیں وہی انتہا پسند پھیلارہے ہیں جوملک کوانتہا پسند ریاست بناناچاہتے ہیں۔

آل خلیفی جرنیل کی ان باتوں کا جواب صرف یوں ہی دیا جاسکتا ہے کہ بے وقوف لوگ ہی دنیا کو بے وقوف سمجھتے ہیں اور اتنے ساری مسلمہ حقائق کا انکار صرف احمقوں کی جنت میں رہنے والے افراد ہی کرسکتے ہیں ورنہ تقریبا ساٹھ کے قریب مساجد، امامبارگاہوں اور مزارات کو منہدم کرنے کے ناقابل انکار ثبوتوں کے باوجود اور ہزارون افراد کو ٹارچر کرنے اور دسیوں کو شہید کرنے اور سیاستدانوں کے گھروں کو نیست ونابود کرنے اور تشدد کرکے لوگوں کو شہید کرنے اور سیاستدانوں کو جنسی زیادتی کی دھمکیاں دینے اور عرب و مسلمان ہونے کا دعوی کرنے کے باوجود سینکڑوں خواتین کو پابند سلاسل کرنے اور بچوں تک کو پھانسی کی سزا سنانے کے باوجود کوئی باعزت شخص میڈیا کا سامنا کرنے سے دور بھاگتا ہے اور یہ آل خلیفیوں کی نہایت بے شرمی کی دلیل ہے کہ وہ دنیا اور اپنی قوم کی آنکھوں کی آنکھیں ڈال کر جھوٹ بولتے ہیں۔ العربیہ کی بھی کی تو بات ہے کیا ہے جس کی شیعہ دشمنی کے لئے یہی ثبوت پیش کرنا کافی ہے کہ یہ آل سعود کے متعصب وہابی دھڑوں سے وابستہ ہے اور یہ کہ اتنے حقائق کے باوجود یہ آل خلیفہ کی ہرزہ سرائیوں کا اردو ترجمہ کرکے اردو پڑھنے اور سمجھنے والوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

پھانسی کی سزائیں اوراپوزیشن سے مذاکراتُملک کے فرمانرواشیخ احمد بن عیسٰی کی جانب سے اپوزیشن سے مذکرات اورعدالتوں سے سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزاٶں میں کمی کے حوالے سے سوال پربحرینی فیلڈ مارشل نے کہا کہ"ہم کسی بے گناہ کا خون ہرگزنہیں بہانا چاہتے۔ لیکن جولوگ اپنی سیاسی ترقی چاہتے ہیں اوراپنے مدمقابل کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں،جب تک ایسے لوگوں کو کیفرکردارتک نہ پہنچایا جائے توملک میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ اس کے باوجود قومی سلامتی کے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتوں سے جن مجرموں کو پھانسی کی سزائیں ہوچکی ہیں،ان کے مقدمات بھی اپیل عدالتوں کو منتقل کیے جارہے ہیں، تاکہ حتمی فیصلہ وہی کریں۔

بے فوج کے اس فیلڈ مارشل سے پوچھنا چاہئے کہ اکتیس افراد کو تم نے گولیان مارکر یا گھروں سے اغوا کرکے اذیتکدوں میں تشدد کرکے شہید کردیا کیا انھوں نے تمہارا کوئی رکن خاندان قتل کیا تھا؟ ان کا گناہ کیا تھا؛؟ شہید ہونے والے بچوں کا گناہ کیا تھا؟ پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریون کا گناہ تھا جنہوں نے بحرینی خواتین کو تمہارے غنڈوں سے بچاتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا؟ ہمیں تو معلوم ہے کہ اگر دنیا والوں کے احتجاج کا خوف نہ ہوتا تو تم تو پوری بحرینی قوم کو مار کر بھی مطمئن نہیں ہورہے ہو اور بیرونی کرائے کے غنڈوں کو شہریت دے کر تم ان کا قتل عام ہی کررہے ہو۔ اگر کسی مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے تو آل خلیفہ خاندان میں کون سا فرد ایسا ہے جو عوام کے قتل عام میں ملوث نہ ہو؟ ان کو کیوں سزا نہیں دی جارہی؟ کیا معافی مانگنے کی بجائے اب بھی دھمکیاں دے رہے ہو؟ اگر یہ مجرم ہیں تو دس لاکھ کی آبادی والے ملک میں سات لاکھ افراد کی ریلیاں کس کھاتے میں جائیں گی؟

تم ان نابالغ بچوں کو مجرم کہہ رہے ہو جن کو آل سعود اور آل خلیفہ کے فوجیوں نے موت کی سزائیں سنائی ہیں تو پھر ہزاروں افراد پر تشدد، مساجد کی شہادت میں ملوث، قرآن جلانے میں ملوث اور سینکڑوں شہیدوں اور زخمیوں کا خون بہانے والے آل خلیفی کیا مجرم نہیں ہیں؟

اُنھوں نے کہا کہ جن مجرموں کو پھانس