2 جون 2011 - 19:30

اسلام آباد…سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات میں تفتیشی آفیسرز تبدیل کرنے پر ایف آئی اے کے ڈی جی ملک اقبال پر فردجرم عائد کردی ہے ، عدالت نے تفتیشی آفیسر ظفر قریشی کے تبادلے اور اسکینڈل کی تحقیقات کا تمام رکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔

ابنا: چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے ڈی جی ایف آئی اے کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی ، چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس میں کہا کہ ایف آئی اے افسر انعام غنی کوبھی اس لئے او ایس ڈی بنا یا گیا کہ اس کا نام میں نے لیا تھا، ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا، انعام غنی نے خود بیٹے کی بیماری کا عذر پیش کیا تھا، جسٹس غلام ربانی نے کہا کہ عدالت نے ایسے طرز عمل کو نہ روکا تو نتائج ٹھیک نہیں ہوں گ، بعد میں عدالت کی ہدایت پر اٹارنی جنرل نے فرد جرم عائد کرنے کا مسودہ تیار کرکے عدالت میں پیش کیا تو چیف جسٹس نے اسے پڑھ کر سنایا اور جواب کیلئے مسودہ ملک اقبال کو بھی دیا گیا ، ملک اقبال نے جوابی تحریر میں لکھا کہ وہ فردجرم میں عائد چارج کا دفاع نہیں کرنا چاہتے ، وہ یہ بھی احترام سے کہتے ہیں کہ انہون نے جان بوجھ کر عدالتی وقار کو کم کرنے کی کوشش نہیں کی، عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ این آئی سی ایل کیس کی جو تفتیش ظفرقریشی اور دیگر نے کی وہ ریکارڈ پیش کیا جائے، عدالت نے ظفرقریشی کے تبادلے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا جبکہ ایف آئی اے کو کہا کہ وہ بھی این آئی سی ایل اسکینڈل کی تفتیش کا ریکارڈ عدالت میں لائے ، بعد میں عدالت نے تحریر کیا کہ سماعت کے دوران وقت کافی ہوگیا، اس لئے سماعت 8 جون تک ملتوی کی جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت