ابنا: پہلے حکومت نے موقف تبدیل کرتے ہوئے انکار کیا کہ بگٹی کو ٹارگٹ کیا گیا ہے لیکن تین دن بعد ہی بگٹی کی موت کو ایک دہشتگرد قبائلی رہ نماء کا قتل کہہ کر فوجی کامیابی سے جوڑ دیا گیا۔۔انتیس اگست دو ہزار چھ کو اسلام آباد سے امریکی ناظم الامور پیٹر Boddeکے مراسلے کے مطابق نواب اکبر بگٹی کی موت کو نہ صرف اپوزیشن جماعتوں بلکہ اتحاد میں شامل متحدہ قومی مووٴمنٹ نے ماورائے عدالت قتل قرار دیا۔ مراسلے کے مطابق مشرف حکومت نے بگٹی کو ہلاک کرنے کے فوری بعد اسے بڑی کامیابی قرار دیا لیکن بعد میں ماورائے عدالتی قتل کے الزامات سے پیچھے ہٹنے لگی۔ امریکی ناظم الامور نے مراسلے میں لکھا کہ ایک شخص جو اپنے صوبے میں پچھلے پچاس سال سے بغاوت پر اترا ہوا تھا ، اس کی ہلاکت پر منہ بند رکھنے والے بعض سیاست دان فوج کے ہاتھوں بک چکے ہیں ۔ خود امریکی ناظم الامور پیٹر Boddeنے مراسلے میں ریمارکس دیے ہیں کہ نواب اکبر بگٹی ، اپنی موت کے بعد بھی اسلام آباد میں حکومت پر آسیب بنا ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز