ابنا: سعودی عرب نے پاکستان، انڈونیشیا ، ملائشیاء اور مرکزی ایشیا کے ممالک سے مذاکرات کئے ہیں اور ان سے بحرین کے شیعہ مسلمانوں کو کچلنے اور بحرین کی امریکہ اور اسرائیل نواز حکومت کی حمایت کرنے کی درخواست کی ہے امریکی حکام کے سعودی عرب حکومت سے گہرے روابط ہیں لیکن بعض موارد میں امریکی حکام سعودی عرب کے حکام کی بات کو پورا نہیں کرسکے ہیں سعودی عرب نے امریکہ پر زوردیا تھا کہ وہ مصر میں حسنی مبارک حکومت کو بچانے کے لئے اقدام کرے لیکن امریکہ ایسا نہیں کرسکا کیونکہ مصر کا انقلاب امریکی وہم و گمان سے کہیں آگے نکل چکا تھا۔ امریکی اخبـار کے مطابق سعودی عرب نے اس وقت 4 ہزار فوجی بحرین میں شیعوں کے قتل عام کے لئے روانہ کئے ہوئے ہیں جو بحرین میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ارتکاب کررہے ہیں ملائشیا نے بھی بحرین میں فوجی بھیجنے کی سعودی درخواست کو قبول کرلیا ہے لیکن بحرین نے ابھی ایسی کوئی درخواست نہیں دی ہے سعودی حکام کے مطابق پاکستان بھی بحرین میں فوجی بھیجنے کے لئے تیار ہے۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے مصر کی فوجی حکمراں کونسل کو گزشتہ ہفتے چار ارب ڈالر امداد فراہم کی ہے اور سعودی عرب مصری ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو پھانسی سے بچانے کی کوشش کررہا ہےسعودی حکومت یمن کےصدر علی عبد اللہ صالح جبکہ اردن اور مراکش میں شاہی نظام کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس سلسلے میں اردن اور مراکش کو خلیج تعاون کونسل کا رکن بننے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق سعودی عرب کی ان سب کوششوں کا مقصد ایک طرح کا بادشاہتی کلب بنانا اور عرب عوامکی احتجاجی لہر کو سعودی عرب پہنچنے سے روکنا ہے۔ اسلامی ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے عرب ڈکٹیٹروں کی حمایت کرکے عرب عوام کی حمایت کو کھو دیا ہے جبکہ عرب عوام میں ایران کی حمایت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ ایران عرب ممالک میں جاری عوامی لہر اور عرب عوام کے جمہوری مطالبات کی حمایت کرتا ہے ایران نے ہمیشہ عرب حکمرانوں پر زوردیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے بجائے عرب عوام کے ساتھ مل کر چلیں اور امریکی اور اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے بجائے عرب عوام کے مفادات کی حفاظت کریں عرب عوام میں ایران کی حمایت سے سعودی عرب کےوہابی خیمہ میں ہلچل اور شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169