24 مئی 2011 - 19:30

رکن بحرین انسانی حقوق کونسل نے انسانی حقوق اور جمہوریت کے سلسلے میں امریکی دعوؤں کو، کھوکھلا، جھوتا اور بے بنیاد قرار دیا اور کہا: بارک اوباما نے اپنی حالیہ تقریر میں بحرینی عوام کی اکثریت کے حقوق کو نظرانداز کردیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رکن بحرین انسانی حقوق کونسل عباس عمران نے کہا: جمہوریت کے حوالے سے امریکی موقف دوہرا ہے اور امریکہ دنیا کے مختلف ممالک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے مختلف قسم کا موقف اپناتا ہے۔انھوں نے سوال اٹھایا: جس جمہوریت کا اوباما نے دعوی کیا وہ ہے کہاں؟ انھوں نے کہا: اوباما نے اپنی تقریر میں عرب دنیا کے انقلابات کا خیر مقدم کیا لیکن بحرین کے عوام اور ان کے انقلاب کو نظر انداز کردیا۔ العمران نے کہا: انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض امریکی ذرائع ابلاغ کی طرف سے آل خلیفہ حکمرانوں کے مظالم پر شدید تنقید کی وجہ سے بحرین کے حوالے سے اوباما کا دوہرا موقف طشت از بام ہوگیا جس کے نتیجے میں اوباما شرمندہ ہوگئے اور اپنی تقریر میں کسی حد تک بحرین کی طرف بھی اشارہ کیا۔ العمران نے کہا: بحرینی عوام اوباما کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ ان کے لئے اہم بات یہ ہے کہ آل خلیفہ حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کو بین الاقوامی فورمز میں اٹھایا جائے اور اس پر غور کیا جائے۔ واضح رہے کہ اوباما کی تقریر نہ صرف بحرین کے سیاسی راہنماؤں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنی ہے بلکہ بعض مغربی روزناموں نے اپنی یادداشتوں اور آرٹیکلز میں انسانی حقوق جیسے اہم موضوع میں اوباما کے دوہرے موقف پر تنقید کی اور لکھا کہ اوباما نے اس اہم مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سعودی عرب کا نام تک نہیں لیا اور آل خلیفہ حکومت پر زبانی کلامی تنقید تک نہیں کی۔یادرہے کہ اوباما نے اپنی تقریر میں بحرین میں تین مہینوں سے انسانی حقوق کی جاری وسیع خلاف ورزی کے باوجود، صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ بحرینی حکومت کو عوام کے حقوق تسلیم کرلینے چاہئیں جبکہ انھوں نے شام کے صدر پر اتنی تند و تیز تنقید کی اور ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا کہ حتی مغربی دنیا میں بھی ان کے موقف پر کڑی نکتہ چینی ہوئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110