30 اکتوبر 2026 - 02:01
امریکی آئل جینٹس بالآخر امارات سے فرار ہو ہی گئے

ایکسون موبل اور شیفرون نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اگلے ہفتے امارات کی تیل کانفرنس میں اپنے اعلیٰ حکام کی شرکت کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کے اقتصادی شعبے کی رپورٹ؛ آگاہ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ تیل کمپنیوں ایکسون موبل اور شورون نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اگلے ہفتے "ایڈی پیک" (ADIPEC) تیل کانفرنس میں شرکت کے لیے اپنے اعلیٰ حکام کے امارات کے سفر کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔

رپورٹ کا خلاصہ:

ایکسون موبل اور شیفرون کارپوریشن نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اگلے ہفتے متحدہ عرب امارات میں ہونے والی آئل کانفرنس "ایڈی پیک" میں اپنے اعلیٰ حکام کی شرکت کے منصوبے منسوخ کر دیئے ہیں۔ ایکسون موبل کے سی ای او ڈیرن ووڈز اور شیفرون کے ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کے سربراہ کیلی نیف کو شرکت کرنی تھی۔ ایڈی پیک دنیا کی سب سے بڑی سالانہ توانائی کانفرنس ہے، جو ابوظہبی میں منعقد ہوتی ہے اور تیل کمپنیوں کے سربراہان اور توانائی کے وزراء کے لئے اہم ترین اجتماع ہے۔

روئٹرز کے مطابق یہ منسوخی تیل کی منڈیوں میں ایران پر ممکنہ نئی امریکی حملوں اور تہران کے جوابی اقدامات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی علامت ہے۔

ٹرمپ کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کے دعوے کے باوجود، میڈیا میں ایران کے خلاف تیسرے امریکی فوجی حملے کی آمد آمد کی باتوں نے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور خلیج فارس میں اقتصادی و توانائی کی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے بھی گذشتہ ہفتے سعودی عرب سے کچھ سفارت کاروں کے انخلا کا حکم دیا اور امریکی حکام نے خطے میں کئی دیگر مشنوں کے کارکنوں کے اہل خانہ  کے انخلا کے منصوبے کا اعلان کیا۔

علاقائی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کی جنگ کے اخراجات اب واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں کو متاثر کر رہے ہیں اور ان ممالک میں سرمایہ کاری کی سلامتی کو شدت سے ابہامات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی 40 روزہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات امریکہ اور صہیونی رجیم کے ساتھ تعاون کی وجہ سے ایران کے براہ راست میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنا اور اسے قابل ذکر نقصان اٹھانا پڑا۔

فجیرہ بندرگاہ، آبنائے ہرمز سے باہر سب سے اہم اماراتی بندرگاہ ہے جس کے تیل کی منتقلی کے نظام کو ایران نے نشانہ بنایا اور اس بندرگاہ کا آپریشن ہفتوں تک متاثر رہا۔

ابوظہبی اور دبئی میں بھی شہری سہولیات کو نقصان پہنچا اور آگ لگی۔

اندازوں کے مطابق امارات کو صرف سیاحت کی صنعت سے روزانہ 500 ملین پاؤنڈ کا نقصان ہؤا۔

جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر نے دبئی کے اندر ایک سیٹلائٹ گراؤنڈ اسٹیشن پر چھپائے ہوئے نقصان کو بھی عیاں کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha