19 مارچ 2011 - 20:30

بحرین کے سینکڑوں یونیورسٹی طلبہ نے یونیورسٹی پر سکیورٹی فورسز کے حملے اور اسے ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یونیورسٹی کی تعلیم کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا ہے۔

ابنا: فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے سینکڑوں یونیورسٹی طلبہ نے یونیورسٹی کی حدود میں سکیورٹی اقدامات سخت کئے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نئے تعلیمی سال میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا اور یونیورسٹی چھوڑ دی ہے۔ گزشتہ ہفتے بحرین یونیورسٹیوں کو دو ماہ بند رکھنے کے بعد دوبارہ کھولا گیا تھا۔ یونیورسٹی چھوڑنے والے ایک طالب علم نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یونیورسٹی کے تمام دروازے بند کر کے صرف ایک دروازہ کھلا رکھا گیا ہے اور اسے ایک چیک پوسٹ میں تبدیل کر دیا گيا ہے تاکہ یونیورسٹی سے زبردستی نکالے گئے طلبہ کو داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ اس طالب علم نے کہا کہ تمام طلبہ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے وفاداری کا فارم بھرنے پر مجبور ہیں اس فارم میں ایسی شرطیں رکھی گئی ہیں کہ جن کے تحت ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے نمائندوں نے بین پارلیمانی یونین کی رکن پارلیمانوں کے نام ایک خط میں بحرین میں یونیورسٹی طلبہ کی وسیع پیمانے پر گرفتاری پر عالمی اداروں کی خاموشی پر شدید تنقید کی ہے۔ اس خط میں اس بات پر زور دیا گيا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے نمائندے بحرین کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبہ کی رہائی تک خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ان کی رہائی کے لیے کوششیں کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت