ابنا: اس سرکاری عہدیدار نے کابل میں فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے افراد نے گزشتہ ہفتے دس قبائلی سرداروں کو اغوا کیا جن کا افغانستان کی حکومت اور اعلی امن کونسل سے کوئي تعلق اور رابطہ نہیں تھا۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ طالبان کے ترجمان یوسف احمدی نے بعض مقامی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ان تین افراد کو اعلی امن کونسل کے ساتھ رابطے کی وجہ سے قتل کیا گيا ہے۔ حال ہی میں اس کونسل کے نائب سربراہ کو جو ہلمند صوبے کے ایک قبائلی بزرگ تھے، نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔ اگرچہ افغان حکومت کے بعض عہدیداروں نے یہ کہا ہے کہ صوبۂ زابل میں قبائلی سرداروں کے اغوا کا اعلی امن کونسل سے کوئي تعلق نہیں ہے لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ طالبان کی جانب سے سازباز کے عمل کی مخالفت کا یہ شدید ترین اعلان ہے کہ جس پر افغان حکومت امن کونسل بنا کر عمل پیرا ہے۔ البتہ یہ منصوبہ امریکہ نے تیار کیا اور افغان حکومت پر اس عمل کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گيا ہے۔ کیونکہ افغان حکومت کے ایک مخالف عبداللہ عبداللہ نے طالبان کے ساتھ سازباز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں حکومت کی کوششوں کو داخلی حمایت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس عمل کو روک دے۔ اس بنا پر جس طرح طالبان کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ اگر ان قبائلی سرداروں کے قتل کا امن کونسل سے تعلق ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے اندر بھی اس ملک کے عوام اور طالبان کہ جو مذاکرات کا اصل فریق ہیں، اس عمل کے مخالف ہیں اور صرف افغان حکومت اور امریکہ طالبان کے ساتھ سازباز مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔اس مذاکراتی عمل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انتہا پسند تحریکوں کے ساتھ تعاون کا تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا ہے اور کابل حکومت درحقیقت ناکام تجربے کو دہرانا چاہتی ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ طالبان بھی اپنی سرگرمیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے اپنے امریکہ مخالف چہرے کو باقی رکھنا چاہتے ہیں یا بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق مذاکراتی عمل سے منسلک افراد کو قتل کر کے امریکہ اور افغان حکومت کو زیادہ مراعات دینے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز