ابنا: مصر کی ایک عدالت نے 28 جنوری کو سابق صدر حسنی مبارک کےخلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین پر وحشیانہ انداز میں فائرنگ کر کے 18 افراد کو قتل کرنے کے الزام میں پہلے ملزم کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔رپورٹ کے مطابق قاہرہ کی ایک خصوصی عدالت نے محمد السنی نامی مفرور ملزم کے مقدمہ کی سماعت کی۔ عدالت نے مفرور ملزم کی غیر موجودگی میں فیصلہ دینے کے بعد حتمی رائے کے لیے فیصلہ مفتی جمہوریہ مصر کو بھیج دیا ہے اور ایک ماہ کے اندر اپنی رائے دینے کی ہدایت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق ملزم محمد ابراہیم عبدالمنعم المعروف محمد السنی پر الزام ہے کہ اس نے اس سال 28 جنوری کو صدر حسنی مبارک کےخلاف منائے جانے والے "جمعہ یوم الغضب" کے موقع پر قاہرہ کے نواحی علاقے "زاویہ الحمرا" میں جمع سینکڑوں شہریوں پر گولیاں چلائی تھیں جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق اور دسیوں زخمی ہو گئے تھے۔مقدمہ کی سماعت کے دوران مقتولین کے لواحقین کی بڑی تعداد عدالت کے باہر جمع تھی۔ لواحقین نے عدالت کے فیصلے کو منصفانہ قرار دیا اور مطالبہ کیا ہے عدالت محمد السنی کی طرح سابق وزیر داخلہ حبیب العادلی اور دیگر سرکردہ شخصیات کو بھی عبرت ناک سزا دے کیونکہ وہ بھی پرامن مظاہرین کے قتل عام کے مرتکب ہوئے ہیں۔قاہرہ کی عدالت نے ملزم محمد السنی کے خلاف 57 افراد کے بیانات قلم بند کیے جنہیں ملزم کےخلاف سزا کے لیے بطور ثبوت پیش کیا گیا۔خیال رہے کہ مصر میں کسی ملزم کی سزا کے لیے مفتی کی رائے کی حیثیت صرف ایک مشورے کی ہے، عدالت اس پر عمل درآمد کی پابند نہیں۔ عدالت اپنی کارروائی کے تحت ملزم کو سزا دینے کی مجاز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت