21 مئی 2011 - 19:30

اطلاعات کے مطابق کور کمانڈر پشاور سمیت فوجی حکام کے حالیہ دورہ پاراچنار کے فوراً بعد دہشت گرد ٹولوں نے ایک بار پاراچنار سے 30 کلومیٹر دور سدہ کے ساتھ واقع شیعہ گاؤں بالش خیل پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس میں پانچ شیعہ مدافعین شہید اور درجنوں دہشت گرد ہلاک نیز دہشت گرد کو شدید مزاحمت کے بعد پسپا ہونا پڑا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کو ملنی والی اطلاعات کی مطابق طالبان کی متعدد لشکروں نے شیعہ گاؤں بالش خیل پر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا اور لڑائی رات بھر جاری رہی تا ہم شیعیان پاراچنار نے ہمیشہ کی طرح بہادری سے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور انہیں فرار ہونے پر مجبور کیا۔ رات بھر جاری رہنے والی لڑائی میں 5 شیعہ مدافعین شہید ہوگئے ہیں جبکہ پسپا ہونے والے طالبان دہشت گردون کی ہلاکتوں کی تعداد درجنوں میں بتائی جاتی ہے۔ روزنامہ جنگ نے لکھا کہ اس لڑائی میں مجموعی طور پر 9 افراد کام آئے ہیں اور متعدد زخمی ہیں۔جنگ کی رپورٹ کے مطابق "آج صبح" لوئر کرم کے علاقوں بالش خیل اورخوار کلے میں مختلف قبائل کے مابین اچانک فائرنگ شروع ہوگئی اور جھڑپ میں بھاری اور خودکار ہتھیار استعمال کئے گئے۔ایم این اے ساجد طوری نے جیونیوز سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کا نام سن کر شدت پسند کرم ایجنسی کا امن تباہ کرنے کی ایک بار پھر کوشش کررہے ہیں۔  اطلاعات کے مطابق طالبان کی ہلاکتوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہوسکی کیونکہ پسپا ہو کر فرار ہونے والے طالبان اپنے ساتھیوں کی لاشیں بھی لے گئے ہیں۔ دریں اثناء اتوار کی صبح سرکاری فورسز کو مختلف پہاڑی کھائیوں سے طالبان کی چار لاشیں ملی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملنے والی لاشیں اورکزئی کے طالبان کی ہیں۔ اسلام ٹائمز لکھتا ہے: "قابل ذکر ہے کہ کور کمانڈر پشاور کے دورہ کرم کے دن طالبان دہشت گردوں اور ان کے مقامی حمایتی شرپسند عناصر کی طرف سے پاراچنار اپرکرم کے گاؤں پیواڑ، شلوزان، اور خیوص کے بعد اب لوئر کرم کے طوری گاؤں بالشں خیل پر بھاری ہتھیاروں سے حملے ہورہے ہیں۔ اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ مقامی انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز ایکشن لینے کی بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں"۔بہر صورت حقانی نیٹ ورک اور سرکاری اداروں کے درمیان تعلق اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ہے اور حال ہی میں شلوزان کے علاقے پر اسی نیٹ ورک نے ہزاروں گولے فائر کئے ہیں جس کا مقصد علاقے کے عوام کو مجبور کرنا تھا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کو شلوزان کے پہاڑیوں میں محفوظ ٹھکانے دی دیں لیکن ناکامی ہوئی تو اب انھوں نے ایک بار پھر علاقے پر باقاعدہ جنگ مسلط کررکھی ہے اور کور کمانڈر کا دورہ پاراچنار بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ دریں اثنا آج (اتوار کو) پاراچنار میں شیعہ قبائل کا گرینڈ جرگہ منعقد ہوا اور عمائدین نے حکومت سے فوری اقدامات کر کے وزیرستان اور اورکزئی ایجنسی سے آنے والے طالبان لشکروں کو لگام دینے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے کہ کور کمانڈر پشاور کے دورہ کرم کے عین اس وقت جب کور کمانڈر تقریر کر رہے تھے، طالبان دہشت گردوں اور ان کے مقامی حمایتی شرپسند عناصر کی طرف سے پاراچنار اپرکرم کے گاؤں پیواڑ و شلوزان پر میزائل اور مارٹر گولے برسآئے جارہے تھے جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھی؟۔گرینڈ جرگہ نے الزام عائد کیا کہ حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ٹل پاراچنار مرکزی شاہراہ گذشتہ چار سالوں سے طالبان مخالفوں کے لئے بند ہے لیکن یہی شاہراہ وزیرستان اور اورکزئی ایجنسی سے آنے والے طالبان لشکروں بشمول سیکورٹی فورسز کے لئے کھلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کور کمانڈر پشاور کی طرف سے علاقے میں آپریشن کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کرم ایجنسی میں سوات طرز کا حقیقی آپریشن جلد از جلد کیا جائے، تاہم آپریشن میں ظالم اور مظلوم حملہ آور اور دفاع کرنے والوں میں واضح فرق کیا جائے تو تب ہی جنت نظیر وادی کرم ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ دریں اثنا‏ء اطلاعات ہیں کہ طالبان دہشت گردوں نے اپنے مقامی حمایتی شرپسندوں کی مدد سے حملے کئے ہیں تا ہم غیور قبائل نے بھرپور مزاحمت کرکے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیئے ہیں۔دریں اثناء یوتھ آف پاراچنار نے گرینڈ ریلی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے الیکٹرانک پیغام میں لکھا ہے:گرینڈ ریلی شرکت لازمی....بروز اتوار،۲۲مئی ۲۰۱۱بوقت شام چار بجے تا مغربین(انشااللہ)بمقام نیشنل پریسں کلب تا پارلیمنٹ ہاؤسں اسلام آبادپاراچنار کے علاقوں پیواڑ، شلوزان، خیوص اور بالشں خیل پر طالبان دہشت گردوں کے گزشتہ تین دنوں سے جاری حملوں اور ایک ماہ پہلے بگن لوئر کرم میں طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے مسافروں کی رہائی کے لئے ریلییوتھ آف پاراچنار نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی خاطر گرینڈ ریلی کا اعلان کیا ہے۔ پاراچنار روڈ کھولنے اور طالبان سے اغوا شدہ افرادرہا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔۔۔........../110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت