ابنا: اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان البرٹو روڈ ریگز نے کہا کہ امریکی شہریوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں انہوں نے کہا کہ امریکہ کا کوئی بھی اعلی عہدیدار اس گاڑی میں موجود نہیں تھا۔پاکستانی طالبان کے ترجمان احسن اللہ احسن نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کی امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد یہ پہلا حملہ ہے۔ طالبان گروہ نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دھمکی دی تھی کہ پاکستان اور امریکہ کے خلاف انتقامی کارروائياں انجام دیں گے۔ امریکی حکام کا یہ خیال ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے افغانستان اور پاکستان کے حالات میں بہتری آئے گی۔ لیکن ان دونوں ملکوں میں دہشت گردی کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام کے یہ اندازے درست نہیں ہیں۔ ایسے حالات میں کہ جب ایبٹ آباد میں روپوشی کے سلسلے میں پاکستان کو مغرب کی بڑھتی ہوئي تنقید کا سامنا ہے ، پاکستان کو طالبان کے نئے حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا یہ خیال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے بارے میں امریکی حکومت کی پالیسیاں پاکستان اور افغانستان سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں کے لیے بحران اور درد سر کا باعث بنی ہیں۔ امریکہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کا ایک سبب یہی ڈرون حملے ہیں اور ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کمانڈوز کا حالیہ آپریشن بھی پاکستان میں طالبان کے نئے حملے شروع ہونے کا باعث بنا ہے۔افغانستان میں بھی عام شہریوں کے قتل عام سمیت غیر ملکی فوجیوں کی تباہ کن پالیسیاں امریکہ کے خلاف مظاہروں میں شدت آنے کا باعث بنی ہیں اور اس سے افغان حکومت پیچیدہ بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ اسی بنا پر علاقے کے بارے میں امریکی پالیسیوں میں تبدیلی افغانستان اور پاکستان سمیت علاقے کے ملکوں کے سکیورٹی کے حالات کو بہتر بنا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز