20 مئی 2011 - 19:30

اسامہ بن لادن نے 1998 مین پاکستان کے پائے کے صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ خلیجی ممالک کا تعلق اسلام سے ہے وہاں کے حکمرانوں سے نہیں۔ مطلب کیا ہے؟

ابنا: پاکستان کے پائے کے صحافی رحیم اللہ یوسفزئی 1998 میں اسامہ بن لادن سے ملے تھے اور ان سے پوچھا تھا کہ:

سوال: آپ عراق پر امریکی اور برطانوی افواج کے حملوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟اسامہ کا جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ برطانیہ اور امریکہ نے اسرائیل اور یہودیوں کے ایماء پر عراق کے خلاف کارروائی کی ہے تاکہ یہودیوں کے لئے یہ راہ ہموار کی جا سکے کہ وہ مسلم دنیا کو تقسیم کر سکیں۔ مسلم دنیا کے وسائل پر قابض ہو جائیں اور مسلم دنیا کی باقی ماندہ دولت کو لوٹ سکیں۔ عراق پر حملے میں معاونت کرنے والی افواج کی بڑی تعداد خلیجی ممالک سے تعلق رکھتی ہے جو اپنی خودمختاری کھو چکی ہیں۔ اب کفار اُس (مبارک) سرزمین پر ہر طرف چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جہاں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کا میلاد مبارک ہوا تھا‘ اور جہاں اُن پر (مقدس کتاب) قرآن کا نزول ہوا تھا۔ یہ صورتحال سنجیدہ ہے۔ حکمراں (عملاً) کمزور ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دینی فریضے کا احساس کریں کیونکہ حکمرانوں نے اپنی سرزمین پر تسلط کو (دل سے) قبول کر لیا ہے۔ ان (خلیجی) ممالک کا تعلق اسلام سے ہے‘ وہاں کے حکمرانوں سے نہیں۔...............اسامہ بن لادن کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کا تعلق اسلام سے ہے وہاں کے حکمرانوں سے نہیں۔ اس کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ کیا اس کا یہی مطلب نہیں بنتا کہ اسامہ کے خیال میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے حکمران مسلمان ہی نہیں ہیں؟اسامہ بن لادن کے یہ الفاظ ان لوگوں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں جو اسامہ کے لئے عزاداری کرکے آل سعود اور آل خلیفہ کی حمایت میں جلوس نکالتے ہیں اور مارنے دھاڑنے پر تل جاتے ہیں!۔گو کہ حال ہی میں کراچی میں سعودی قونصلخانے پر حملے اور پھر ایک حملے میں سعودی سفارتکار کی ہلاکت اور طالبان کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرکے اس طرح کے حملے جاری رکھنے کے اعلان سے بھی آل سعود کے حامیوں کی آنکھیں کھلنی چاہئی تھیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کیسی بات ہے کہ اسامہ کے قتل پر عزاداری کی جاتی ہے اور امریکہ کے ساتھ مل کر اسامہ کو قتل کرنے والوں کے لئے جلوس کیونکر نکالتے ہیں؟ یہ کیسا نظریہ ہے کہ قاتل بھی رضی اللہ عنہ اور مقتول بھی رضی اللہ عنہ؟ایک سوال اور؛ یہ سعودی بحریہ کمانڈر ایڈمرل دخیل اللہ بن احمد الوقدانی ایبٹ آباد میں بن لادن کمپاؤنڈ پر امریکی حملے سے دو روز قبل اسکردو میں کیا کررہے تھے؟

کیا پاکستان کا کوئی نیوی بیس کے ٹو کے دامن میں بھی ہے؟ یا پہر کیا وہاں القاعدہ کا کوئی بیس ہے؟ یا صاحب کوئی معرکہ سر کرنے میں امریکیوں کی مدد کے لئے پہنچے تھے؟ کیا یہ سادہ سی بات کسی کو سمجھ میں نہیں آرہی؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت