20 مئی 2011 - 19:30

مشرق وسطی کے بارے میں امریکی صدر باراک اوبامہ کی تجویز کو اسرائیلی وزیر اعظم نے دو ٹوک الفاظ میں رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کی تجویز ناقابل عمل ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ اسرائيل کی غلط پالیسیوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

ابنا: اگر امریکہ اسرائیل کی غلط پالیسیوں کی حمایت ترک کردے تو اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے لیکن امریکہ کی بھر پور حمایت کی وجہ سے اسرائیل نے فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کی آج تک کسی بھی قرارداد کا کوئي بھی پاس و لحاظ نہیں کیا عالمی مبصرین مشرق وسطی کے بارے میں امریکی صدر کے بیان کو فریب قراردے رہے ہیں کیونکہ مشرق وسطی کے بارے میں  گذشتہ چھ دہائیوں پر محیط امریکی پالیسیاں جھوٹ اور فریب پر مبنی رہی ہیں اور امریکہ نے عربوں کے بجائے ہمیشہ اسرائیل کا ساتھ دیا ہے اور عربوں کو دبانے کے لئے امریکہ نے ان کے سرپر اپنے افراد مسلط کررکھے ہیں جو علاقہ میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کا  تحفظ کررہے ہیں۔ لیکن اب عرب عوام امریکی آلہ کاروں اور اس کے ایجنٹوں  سے نجات حاصل کرنے کی تلاش و کوشش میں ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت