7 مئی 2011 - 19:30

پاکستان کی اعلی فوجی قیادت نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق انٹیلیجنس خامیوں کااعتراف کیاہے.

ابنا: آئی ایس پی آرسے جاری بیان کے مطابق 138ویں کورکمانڈرز کانفرنس جی ایچ کیو راول پنڈی میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی کی صدارت میں ہوئی جس میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور اس سے پیدا صورت حال اور پاک امریکہفوجی روابط پرغور کیا گيا۔ایبٹ آباد میں ہونے والی کارروائی کے بعد پاک فوج کی طرف سے پہلی بار جاری باضابطہ بیان میں کہاگیاہے کہ واقعہ کی تحقیقات کے احکامات جاری کردئے گئے ہیں۔کورکمانڈرزکانفرنس کے شرکاکوبتایاگیاکہ پاکستان نے ملک میں موجودامریکی فوجیوں کی تعدادکم کرنے کافیصلہ کیاہے۔ اجلاس میں اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق ناکامیوں کااعتراف کرتے ہوئے کہاگیاکہ آئی ایس آئی کاالقاعدہ کے خلاف کامیابیوں کاکوئی مقابلہ نہیں،آئی ایس آئی نے سی آئی اے کی مدد کے بغیرالقاعدہ کے 100 سے زائدبڑے رہنمااورمددگار ہلاک اورگرفتارکئے۔ سی آئی اے نے آئی ایس آئی کی دی ہوئی ابتدائی معلومات پر کارروائی کی جبکہ امریکانے معمول کی مشق کے خلاف معلومات کامزیدتبادلہ نہ کیا۔ شرکا کوبتایاگیاکہ اسامہ بن لادن کا کمپاؤنڈسویلین علاقے میں کھلی جگہ پرتھا. کورکمانڈرنے اس عزم کااعادہ بھی کیاکہ پاکستانی عوام کی مددسے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اورملکی خودمختاری اورسالمیت کاہرحال میں دفاع کیاجائے گا۔پاکستانی ذرائع کے مطابق پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنی خفیہ اطلاعات کا تبادلہ نہیں کیا جبکہ پاکستان نے القاعدہ کی کمر توڑنے امریکہ کا بھر پور تعاون کیا امریکہ کے عدم تعاون پر پاکستان کو سخت خفت اور شرمندگی کا سامنا ہے اور امریکہ کے ساتھ تعاون کا نتیجہ خفت اور ذلت کے سوا کچھ نہیں امریکہ کے لئے اپنے مفادات اہم ہیں اور اسے پاکستان کے مفادات کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔