ہوگا فنا سعود
لگتا یہی برس ہے جو ہو گا فنا سعودوہ انتشار ہو گا سمجھ پائے نہ یہودمومن حجاز پڑھ کے جو نکلیں گے سب درودلبیک کی صداؤں سے ہوگی وہاں نمودہوگا یہ وقت قریب امام غیور کااے مومنو اٹھو کے یہ وقت ہے ظہور کامشرق سے جو للکارے حسینی ہوئی بلندتھرا اٹھے ستون عرب وہ لگی گزندبحرین اور یمن سے جو نکلی ہیں ارجمندنوک سنا پہ چڑھنے کو ہر سر ہے سربلندسفیانیت کو دے گی ابو طالبی شکست ہو گی جہاں مے کفر کو پھر دائمی شکستشورائی سازشوں کا بس اب وقت عیاں ہےہر منکر علی کا عمل کار زیاں ہےاذانوں میں گر ولائے علی ہے تو اذاں ہےیہ بات اگر تم سے نہاں ہے تو بیاں ہےاک ضرب یداللہ کی تکرار ہے باقیپھر ارض پہ نہ شاہ نہ شہوار ہے باقیدنیا کو آج فارس و لبنان سے ہے ڈراحمد نژاد طوس میں لبناں میں شیر نرایسی چلی ہیں چالیں کے مغرب ہےتھامے سرآئیں گے جب امام زماں جاؤ گے کدھرہو گی یہودیت کو شکست پھر سے ایک بارلبیک یا حسین کی ہوگی فقط پکار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موسی رضا کراچی
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110