5 مئی 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب احمدی نژاد نے پاکستان کی سینٹ کے چئرمین فاروق نائیک سے ملاقات میں کہا کہ علاقے میں پائی جانےوالی مشکلات کو ہمیشہ اغیار نے ہماری اقوام پر مسلط کیا ہے۔

ابنا: صدر احمدی نژاد نے تہران میں انجام پانے والی اس ملاقات میں علاقے میں تیزی سے رونما ہونےوالی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے امت مسلمہ اور اسلامی ملکوں کے اتحاد کی ضرورت پر زوردیا اور کہا کہ علاقے میں جاری یہ تبدیلیوں نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ اغیار کی افواج اب علاقے سے نکل جائيں ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب علاقے کی اقوام اس موقع سے فائدہ اٹھائيں اور اپنے اتحاد کو مستحکم بنائيں ۔ مسلم اقوام کو چاہئے کہ وہ اس بات کی اجازت نہ دیں کہ عالم اسلام کے کسی بھی گوشہ میں کہيں بھی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو۔پاکستان کی سینٹ کے چئیرمین فاروق نائیک نے بھی اس ملاقات میں علاقے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ ایران اور پاکستان امت اسلامیہ کے خلاف ہونےوالی عداوتوں اور عالم اسلام کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنا تعاون پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دیں ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کے سیاسی انقلابات اگرچہ سے دیر سے شروع ہوئے لیکن علاقے کی قومیں تیزی کے ساتھ اپنے سیاسی اور سماجی مقاصد کی جانب بڑھ رہی ہیں اور اب ان اقوام نے اپنے انقلابی راستے کو پالیا ہے ۔ درحقیقت کہنا چاہئے کہ مشرق وسطی میں آنےوالی تبدیلیوں کا ایک اہم ترین اثر ان رکاوٹوں کا دور ہونا ہے جو اغیار نے کھڑی کررکھی ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف قوموں کی ترقی وپیشرفت رکی ہوئي بلکہ قوموں کی تحقیر و تذلیل بھی ہورہی ہے ۔ اسی لئے اب اگر نئے مشرق وسطی کی بات کی جاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان قوموں میں بیداری پیدا ہوچکی ہے اور وہ اپنی کھوئی عظمت دوبارہ بحال کرکے عزت وشوکت کے ساتھ زندگی گذارنا چاہتی ہيں اگرچہ ان کے اس راستے میں بے شمار مشکلات ہيں لیکن یہ مشکلات باہمی اتحاد و یگانگت سے حل ہوسکتی ہيں ۔ گذشتہ تین عشروں سے علاقے میں اغیار کی موجودگی اور پھر افغانستان و عراق پر ان کے غاصبانہ قبضے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ فوجی طریقہ کار سے نہ صرف یہ کہ مشکلات حل نہيں ہوئی ہيں بلکہ اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے ۔ اس تفرقہ انگیز مداخلت کا سب سے واضح نتیجہ علاقے منجملہ عراق افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کا دائرہ پھیلنے کی صورت میں نکلا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں مغربی ملکوں کے دعوؤں کے باوجود دہشت گرد گروہوں اور ڈکٹیٹر حکومتوں کے لئے مغرب کی حمایت و پشتپناہی کی وجہ سے علاقے کی قوموں کے حقوق پائمال ہورہے ہيں ۔ اور آج بھی جب علاقے کی ڈکٹیٹر حکومتوں کے دن گنے جاچکے ہيں اور دہشت گردوں کے سرغنے صفحہ ہستی سے مٹ رہے ہيں امریکہ نے ایک نیا ڈرامہ کرکے خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ہیرو ظاہر کرنے کے لئے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ڈھنڈورا پیٹ دیا تاکہ وہ افغانستان اور عراق میں گذشتہ دس برسوں سے بے گناہ عوام کے قتل عام اپنے گھناؤنے اور دہشت گردانہ جرائم پر پردہ ڈالے لیکن علاقے کی قوموں نے اپنی انقلابی بیداری کے ذریعہ یہ ثابت کردیا اب وہ سیاسی اعتبار سے بالغ نظری کی حد تک پہنچ چکی ہيں اور ان کا سیاسی شعور بہت زیادہ پختہ ہوگیا ہے وہ آج کے دور میں ڈیموکریسی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جھوٹے دعویداروں کی لن ترانیوں سے مرعوب و متاثر نہیں ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110