ابنا: اس کا اندازہ گذشتہ روز پاکستان کے کور کمانڈروں کے اجلاس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی کی اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر اب کسی ملک کی طرف سے ایبٹ آباد جیسا واقعہ دوہرایا گیا تو اس کا سخت جواب دیاجائے گا اور امریکہ سے فوجی انٹلیجنس تعاون پر نظر ثانی کی جائے گی ۔ پاکستان کی فوج اور حکومت پر اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے ذریعہ ہونےوالی خودسرانہ مبینہ کاروائی کے بعد عوام کا سخت دباؤ ہے کہ ایک آزاد و خود مختار ملک کے اندر داخل ہو کر امریکہ نے براہ راست اور من مانی کاروائی کیسے کردی؟ اور پاکستانی حکومت و فوج کو خبرتک نہ لگنے دی ؟ پاکستانی فوج کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب امریکی حکام نے یہ کہا کہ پاکستان میں اگر مزید معلومات حاصل ہوئیں اور دہشت گردوں کا پتہ لگا تو امریکہ فوجی کاروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ قطع نظر اس کے کہ کیا واقعی ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ہی خلاف کاروائی کی گئی اور اسی کوہی اس کاروائی میں مارا گیا یا سب کچھ ایک ڈرامہ تھا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان کے اندر حکومت کی اطلاع میں لائے بغیر کیسے کیا گیا ؟ یہی وہ سوال ہے جو پاکستان کے عوام اپنی حکومت اور فوج سے پوچھ رہے ہيں ۔ پاکستان کی فوج کے جرنیلوں کے اجلاس میں آرمی چیف نے کہا کہ آئندہ اس طرح کا کوئی واقعہ برداشت نہیں کیا گیا پاکستان کے آرمی چیف نے صاف لفظوں میں اپنے اس موقف کا اعلان کرتے ہوئے امریکی حکام کی ان باتوں کا جواب دینے کی کوشش ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ بھی پاکستان کے اندر کاروائی کی جاسکتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکام نے پاکستانی فوج کے انتباہ کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہيں لیا ہے اسی لئے پاکستانی فوج کے اس بیان کے ایک ہی دن بعد امریکہ کے ڈرون طیارے نے ایک بارپھر شمالی وزیرستان میں حملہ کیا جس میں دس سے زائد افراد مارے گئے ہيں ۔پاکستان کی فوجی قیادت کے اجلاس کے بعد جاری ہونےوالے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایبٹ آباد واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور پاکستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے بارے میں بھی فیصلہ کیا گیا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے بارے میں اطلاعات پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئي ایس آئی نے ہی سی آئی اے کو فراہم کی تھیں مگر سی آئي اے نے بعد میں ہونےوالی پیشرفت سے آئي ایس آئی کو باخبر نہيں کیا اور یکطرفہ طور پر کاروائي کردی جو دونوں اداروں کے مابین جاری تعاون کے منافی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کے سکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایبٹ آباد کے واقعہ سے متعلق کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے اگر ایسا واقعہ دوہرایا گیا تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے انہوں نے امریکہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈو مور کا راگ الاپنا بند کیا جائے کیونکہ ہم اپنی قومی خود مختاری پر سمجھوتہ نہيں کریں گے انہوں نے کہاکہ امریکہ نے ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں پاکستان کو اعتماد ميں نہيں لیا ۔ پاکستانی حکومت اور فوج کی طرف سے امریکہ کو اس سخت انتباہ کے بعد پاکستانی عوام کے اندر سخت پریشانی پائی جارہی ہے۔ پاکستان میں ذرائع کا کہناہے کہ امریکہ نے ایبٹ آباد میں یہ ڈرامہ کرکے پاکستان کو گھیرنے کی کوشش کی ہے اور جب گذشتہ دنوں کہوٹہ کے قریب امریکی اور برطانوی اہلکاروں کی مشکوک موجودگی کو سامنے رکھا جائے تو اس شک کو مزید تقویت ملتی ہے کہ امریکہ کی نگاہیں پاکستان کے ایٹمی پروگراموں پر ہيں اسی لئے اس نے کا کول ملٹری اکیڈمی کے قریب اتنا بڑا ڈرامہ رچایا ۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے یہ کہہ کر کہ اسامہ کی لاش سمندر میں پھینک دی گئی اور اس کی تصویر کو نشرنہیں کیا جائے گا کسی شک کی گنجائش باقی ہی نہيں رکھی کہ کم ازکم ایبٹ آباد میں تو اسامہ کو نہيں مارا گیا بلکہ اس کی ہلاکت کو تشہیراتی مہم اور سامراجی عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے ہی ڈرامے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے ۔
بہرحال اس وقت پاکستان اہم موڑ پر کھڑا ہے اور اس ملک کے عوام کے صبر کا پیمانہ بظاہر لبریز ہوتا جارہا ہے وہ سوال کررہے ہيں کہ کب تک امریکہ ان کی قومی خود مختاری کو نظر انداز کرتا رہے گا؟ شاید پاکستان کے عوام کے اسی دباؤ کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستانی فوج اور حکومت نے امریکہ کو سخت خبردار کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ ہوش کے ناخن لیتا ہے یا پھر جیسا کہ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ جنرل پٹریئس کو سی آئي اے کا سربراہ بنا کر امریکہ نائن الیون کے بعد کی اپنی تیسری جنگ پاکستان میں لڑنا چاہتا ہے ۔ اگر امریکہ نے یہ حماقت کی تو شاید وہ اپنی تباہی کا انتظام کرے گا کیونکہ افغانستان اور عراق میں امریکہ نے جو حملہ کیا تھا وہاں کی صورت حال مختلف تھی افغانستان ميں نہ تو اس وقت فوج تھی اور نہ آج کوئي پیشہ ور فوج ہے جبکہ عراق میں بھی صورتحال کچھ اسی طرح کی تھی مگر پاکستان کی فوج علاقے کی ایک مضبوط اور پیشہ ور فوج گردانی جاتی ہے اور پاکستان کے عوام پہلے سے ہی امریکہ کے تئيں اپنے دلوں میں نفرت کی آگ لئے بیٹھے ہیں ۔ بہتر تو یہی ہوگا امریکہ جو افغانستان سے نکلنے کا راستہ تلاش کررہا تھا اب اسامہ کی ہلاکت کی تشہیر کے بعد علاقے سے نکل جائے اور مزید آگ سے کھیلنے کی کوشش نہ کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔/110