اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی سید کاظم الحسینی الحائری نے فتوی دیا ہے کہ 2011 کے بعد امریکیوں کا عراق میں رہنا حرام ہے۔
آیت اللہ العظمی حائری کا فتوی کل اتوار کو ان کی ویب سائٹ کی زینت بنا ہے۔
آیت اللہ العظمی سید کاظم الحائری کو موصول ہونے والے استفتاء کا متن:
سماحۃ المرجع الدینی آیت اللہ العظمی السید کاظم الحسینی الحائری دام ظلہ
بے شک امریکیوں نے ہمارے ملک پر قبضہ کیا اور ہماری سرزمین میں فساد بپا کیا اور جو کچھ صدام کے زمانے سے باقی تھا وہ بھی ویران کردیا چنانچہ سات سالہ قبضے کے بعد متعلقہ معاہدے کے مطابق امریکی افواج کو 2011 کے آخر تک عراق سے نکل جانا چاہئے۔
عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد 50 ہزار سے بھی زیادہ ہے لیکن نظر یوں آتا ہے کہ گویا وہ عراق میں اپنے قیام کی مدت کی تجدید کی کوششیں کررہے ہیں۔
ایسے حال میں کیا عراقی حکومت اور پارلیمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ سیکورٹی معاہدے کی تجدید کریں؟
منجانب آپ کے مقلدین کا ایک گروپ
18 جمادی الاولی 1382
آیت اللہ العظمی السید کاظم الحسینی الحائری کا فتوی:
معاہدے میں قید شدہ تاریخ کے بعد حتی عراق میں کافر قابضین کا قیام ایک دن کے لئے بھی حرام ہے۔ بار خدایا! تو گواہ رہ کہ میں نے ابلاغ کی ذمہ داری پر عمل کیا۔
19 جمادی الاولی 1382
کاظم الحسینی الحائری
واضح رہے کہ واشنگٹن نے حالیہ ایام میں کئی فوجی کمانڈر عراق روانہ کئے ہیں تا کہ عراقی حکام کو سیکورٹی معاہدے کی مدت میں تجدید کے لئے آمادہ کرسکیں تاہم انہیں وزیر اعظم نوری المالکی سمیت عراق کی مختلف سیاسی جماعتون کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
نوری المالکی نے اسی مقصد سے آنے والے امریکی اہلکاروں سے کہا ہے کہ عراقی سیکورٹی فورسز ملکی امن و امان کی ذمہ داری سنبھال سکتی ہیں اور سیکورٹی معاہدے کی تجدید کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
فتوی کی تصویر:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110