ابنا: اقوام متحدہ کے مطابق کرنل قذافی نے غیر ملکی امدادی کارکنوں کی حفاظت کا یقین دلانے کے ساتھ اقوام متحدہ کے امن مشن کومصراتہ میں داخلے کا یقین بھی دلایاہے۔
ادھر یورپی یونین نے کہا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی طرف سے درخواست کی گئی تو مصراتہ میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی اور حفاظت کے لیے یورپی یونین وہاں اپنا ایک امن فوجی دستہ بھیج سکتی ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبے کے بعد یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ اپنی امن فوج لیبیا بھیجنے کو تیار ہے۔
لیبیا کے شہر مصراتہ سے تقریباً ایک ہزار افراد کوایک فیری کے ذریعہ محفوظ مقام پرمنتقل کیا گیا۔برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ مزید پانچ ہزار شہریوں کو نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔لیبیاکے مختلف علاقوں سے تقریبا گیارہ ہزار افراد جان بچاکر تیونس پہنچ گئے ہیں۔
لیبیاکے عوامی انقلاب کے تعلق سے امریکہ اور یورپی یونین کا منافقانہ رویہ سن 1990 کے عراقی عوام کے انقلاب یاد دلاتا ہے جب صدام کے خلاف تحریک کے دوران جنوبی عراق عوام نے یکے بعد دیگرے کئی بڑے شہروں پر قبضہ کرلیا تاہم امریکہ اور مغربی ملکوں نے مداخلت کرکے عراقی ڈکٹیٹر صدام کو اس کے حتمی سقوط سے بچالیا اور صدامی فوجیوں نے نہایت سفاکی کے ساتھ جنوبی عراق کے عوام کی تحریک کو کچل دیا۔
23 اپریل 2011 - 19:30
News ID: 238297
لیبیا میں کرنل قذافی کی فوج اورانقلابیوں کے درمیان شدید لڑائی میں چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک سو سے زائد افراد مارے گئے۔ ۔قذافی کی حامی فورسزتوپ خانے سے شدید گولہ باری کے ساتھ مغربی شہروں کی آبادی کو بھی نشانہ بنارہی ہیں جس کے نتیجے میں ایک سو دس افرادمارے گئے۔