ابنا: غسان نے اپنے استعفے کی وجہ عرب دنیا کی عوام کی بیداری میں الجزیرہ کے منافقانہ رویے کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الجزیرہ چینل نے اپنے صحافتی غیر جانبداری کو تار تار کردیا ہے
الجزیرہ چینل کا اصل چہرہ مشرق وسطیٰ میں عوامی بیداری میں نظر آیا ہے الجزیرہ نے قطر کے درباری مفتی قرضاوی کے وہ فتوئے تو نشر کیے جس میں انہوں نے قذافی کو واجب القتل قراردیا لیکن بات جب بحرین شام اور یمن کی آئی تو الجزیرہ نے عوامی آواز اور میدانی حقیقتوں کو عرب بادشاہوں کی منشاءو مراد کے مطابق پروپگنڈہ کرنا شروع کیا اور بہت سی حقیقتوں مسخ کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے ظلم پر خاموشی اختیار کی
کہا جاسکتا ہے کہ بن لادن کے انٹریو سے شہرت پانے والا یہ چینل اس وقت ایک ایسی مشنری میں تبدیل ہوچکا ہے جس کا کام عرب دنیا کے اندر بادشاہوں کی خواہشات پورا کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
22 اپریل 2011 - 19:30
News ID: 238150
غسان بن جدوتیونسی کو کون نہیں جانتا عرب دنیا کا معروف و مشہور ٹی وی اینکر پرسن جو الجزیرہ ٹی وی چینل کا ایک مشہور پروگرام کرتا تھا