ابنا: پانامہ میں بین المجالس ہنگامی اجلاس کی شق پر مذاکرات کے دوران ایرانی پارلمینٹ کے نمائندوں اور بحرین اور بعض عرب رجعت پسندوں کے درمیان لفظی جھڑپ کے باوجود ایرانی تجویز کو منظور کرلیا گیا ہے۔ ایرانی پارلیمانی وفد نے مشرق وسطی اور شمال افریقہ کے عوام کے حقوق کے دفاع کے لئے بین المجالس کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ بحرینی نمائندوں نے کہا کہ ایران بحرین کے معاملات میں مداخلت کررہا ہے ایرانی نمائندے نے جواب میں کہا کہ اگر بحرینی نمائندے کے پاس اس سلسلے میں کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کرے اور ایران بحرین کے الزام کو سختی کے ساتھ مسترد کرتا ہے۔ ایران جس طرح فلسطین، مصر، یمن ، لیبیا اور تیونس کے عوام کی حمایت کرتا ہے اسی طرح بحرین کے عوام کی بھی حمایت کرتا ہے اور بحرینی عوام کی سفارتی حمایت تمام ممالک کا اسلامی اور اخلاقی فرض ہے۔ ایرانی نمائندے نے کہا کہ سعودی عرب کی واضح اور آشکار مداخلت پر چشم پوشی کی جارہی ہے اور بحرینی حکومت دوسری حکومت کے تعاون سے بحرین کے عوام کو کچل رہی ہے بحرینی حکومت کا یہ اقدام اسلامی، انسانی اور اخلاقی اقدار کے منافی ہے۔ ایرانی وفد کے سربراہ فلاحت پیشہ نے بین المجالس کے ارکان پر زوردیا کہ وہ حقیقت معلوم کرنے کے لئے ایک وفد بحرین روانہ کرے۔
جھگڑا اس بات پر تھا کہ ایرانی نمائندوں نے خطے کے انقلابی تحریکوں اور آمروں و شخصی حکمرانوں کے کرتوتوں پر عالمی سطح پر بحث کا راستہ ہموار کرنے کے لئے عالمی پارلیمانوں کا اجلاس بلایا تو یہ بات آمرین اور شخصی حکمرانوں کے بے اختیار اور غیر منتخب نمائندوں کو اچھی نہیں لگی۔ ۔۔۔۔۔۔/110