ابنا: گذشتہ دوہفتوں میں فلٹمین کے علاوہ امریکی وزیرجنگ رابرٹ گيٹس اور نائب صدر جوبائڈن اور عراق میں امریکہ کے سابق سفیر زلمی خلیل زاد نے بغداد کا دورہ کیا ہے۔ امریکی حکام کے عراق کے دوروں سے یہ پتہ چلتا ہےکہ امریکہ اپنے سامراجی اھداف کے لئے عراق پربےحد توجہ دے رہا ہے۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ امریکی حکام کے ان دوروں کا مقصد عراق امریکہ سکیورٹی معاہدے کی مدت میں توسیع لانا ہے۔ عراق امریکہ سکیورٹی معاہدے کی رو سے امریکہ کورواں برس کے آخر تک عراق سے اپنے تمام فوجی نکالنے ہونگے جبکہ اس وقت عراق میں امریکہ کے پچاس ہزار فوجی موجود ہیں۔ امریکی حکام کے اقدامات سے ایسا لگتا ہےکہ وہائٹ ہاوس اس سکیورٹی معاھدے پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ بالفاظ دیگر امریکی حکام مختلف طریقوں سے عراق میں باقی رہنے کے بہانے تلاش کررہےہیں۔ اسی وجہ سے وہائٹ ہاوس موجودہ سکیورٹی معاہدے میں توسیع لانے یا نئے سکیوریٹی معاہدے پردستخط کرنے کےدرپئے ہیں۔ یادرہے امریکی وزیرجنگ رابرٹ گيٹس نےبھی عراقی حکام سے اپنی حالیہ ملاقاتوں میں عراق میں امریکی فوجیوں کے تعینات رکھنے کی بات کی ہے گرچہ حکومت بغداد نے اس مطالبے کو صراحتا مسترد کیا ہے لیکن ایسا لگتا ہےکہ امریکہ اصرار پر اصرار کررہا ہے اور مختلف بہانوں سے عراق سے فوجیوں کے انخلاء کو موخر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ عراق کے بارےمیں ا مریکی حکام نے عراق کے لئےاپنی سازشوں میں عراق میں آيندہ دس برسوں تک تعینات رہنے کا پلان بنایا ہے اور اس پلان کو عملی شکل دینے کی ہرممکن کوشش کررہےہیں۔ عراق کے سکیورٹی مسائل کو بہانہ بنانا بالخصوص دہشتگردی سے غلط فائدہ اٹھانا اور اس بات کا دھنڈورا پیٹنا کہ عراقی سکیورٹی فورسس ا مریکہ کی مدد کے بغیر ملک کا انتظام نہیں سنبھال سکتیں عراق میں باقی رہنے کے امریکہ کے بہانے ہیں۔ امریکی حکومت اس وقت بغداد کی حکومت پر بھرپور دباو ڈال رہی ہے لیکن اس کے باوجود عراقی حکام نے امریکہ کے دباو میں آنےسے انکار کردیا ہے اور سکیورٹی معاہدے پر مکمل طرح سےبالخصوص امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارےمیں عمل درامد پر تاکید کررہےہیں اور ان کا کہنا ہےکہ وہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارےمیں کوئي معاملہ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
18 اپریل 2011 - 19:30
News ID: 237395
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جفری فلٹمین ایک وفد کے ہمراہ بغداد کے دورے پرہیں جہاں انہوں نےصدر جلال طالبانی اور وزیرخارجہ ہوشیار زبیاری سمیت عراق کے اعلی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔