15 اپریل 2011 - 19:30

پاکستان کی متعدد سکیولر اور دینی سیاسی جماعتوں میں ایک اہم اضافہ مجلس وحدت مسلمین نامی اس مذہبی سیاسی پارٹی کا اضافہ ہے جس کو ابھی مکمل تشکیل پائے دوسرا سال جارہا ہے ۔

ابنا: مجلس وحدت کا شمار بھی ملک کی ان چند جماعتوں میں کیا جاسکتا ہے جس کی قیادت موروثی اور دائمی کے بجائے انتخابی ہے کیونکہ اس جماعت کا منشور اس وقت تک منظر عام پر نہیں آیااس لئے واضح طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ ملک میں موجود بحرانوں کے حل کے لئے اس جماعت کے پاس کیا تدابیر موجود ہیں اور ان مسائل کا حل وہ کس شکل میں پیش کرتی ہےلیکن اس کے باوجود مجلس وحدت کے سیکرٹری جنرل کے خطابات اور مجلس وحدت کی عام ایکٹیوٹیزسے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ملکی ترقی اور بہتری کے لئے کن خطوط پر سوچتی ہےگذشتہ دنوں اسلام آباد بار ایسوسی ایشن میں بار اور مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ایک مشترکہ استحکام پاکستان کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس سے مجلس وحدت کے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت تین اہم چیزوں کی اشد ضرورت ہے ”وطن دوستی ”شفاف جمہوریت ”اور ملک میں بسنے والے تمام اسلامی مکاتب فکر کے مقدسات کا احترام“ علامہ جعفری کے اس خطاب کو وکلاءبرادری نے بہت ہی انہمناک سے سنا اور خطاب کے بعد بہت ہی سراہا ۔ملک میں اس وقت جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ وطن دوستی اور وطن سے وفاداری کی ہے وطن دوستی کے عدم فروغ کی وجہ سے ہی اس وقت بلوچستان میں ملک دشمن عناصر اپنی گناﺅنی سازشوں میں لگے ہوئے ہیںاور اس کے اپر مسلسل بیرونی مداخلتوں نے ملک کی سا لمیت اور وقار کو خطرے میں ڈال دیا ہے ،سیاستدانوں کی سوچ اپنے وطن کے لئے کم اور کرسی کے لئے زیادہ ہے ۔اس وقت اس امر کی ضرورت پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے کہ وطن دوستی اور پاکستانیت کو ہمہ جانبہ فروغ دیا جائے بحیث کی ہر شخص اپنے سے پہلے اپنے ملک کے بارے میں سوچے ۔مجلس وحدت مسلمین اگرچہ ایک نئی جماعت ہے لیکن اس قلیل مدت میں اس جماعت نے عوام کے ایک بڑے حصے میں جگہ بنالی ہے لیکن اہم ترین بات یہاں ہرعوامی جماعت کے لئے یہ ہے کہ اس کے کارکن مسلسل اس کے ساتھ رہیں کیونکہ عوامی جماعتیں گلی گلی بسنے والے ان کارکنوں کی مرہون منت ہوتیں ہیں جو ہمیشہ سے اس جماعت کے لئے اپنی بے لوث خدمات پیش کرتے ہیں ،اور کسی بھی جماعت کو اگر کارکنوں کی بے لوث خدمات سے بہر مند رہنا ہے تو کارکنوں کے ساتھ مسلسل ایسا مضبوط رابطہ رکھنا ہوگا کہ وہ کسی بھی قسم کے شک وتردید اور مسائل کا شکار نہ ہوںابھی کچھ عرصہ قبل ہی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے اس وقت مسائل کھڑے ہونے جارہے تھے جب جماعت نے کارکنوں پر اپنی توجہ کم کردی تھی ۔کارکن کسی بھی عوامی جماعت کی جان ہوتے ہیںکیونکہ کارکن نہ ہوتوجماعت ایک ٹیکنوکریٹ یا پھر چند ہم آہنگ افراد کا گروہ تو بن سکتی ہے لیکن ایک عوامی جماعت نہیں بن سکتی ۔اگرچہ مجلس وحدت مسلمین کی تشکیل ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے کہ جب ملک کو مختلف قسم کے چلینچز کا سامنا ہے لیکن اس جماعت کو ملکی و قومی مسائل میں کودنے سے پہلے اپنے جماعتی ڈھانچے کو مزید مضبوط اور ہم آہنگ کرنا چاہیے اور زیادہ سے زیاہ عوام میںجگہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے جو یقینا ایک مسلسل اور انتھک محنت و جد جہد سے ہی ممکن ہے اگر کوئی جماعت یہ سمجھے کہ ایک یا دو عوامی جلسے جلوس سے وہ اپنا موقف عوام تک پہنچاسکتی ہے اور ان کے دلوں پر جگہ بناسکتی ہے تو یہ غلط سوچ ہوگی عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کے لئے عوامی رنگ میں رنگنا ضروری ہے بحیث کہ عوام اس جماعت کے لیڈروں کو اپنا سمجھیں جیسے کہ انبیاءکرام کی صفات تھیں ۔دوسری اہم بات کسی بھی جماعت کے لئے پلان ، منصوبے کے بعد معین شدہ اہداف کی جانب کارکنوں کو دھکیلنا ہے کیونکہ عام طور پر عوامی جماعتوں کے کارکن کے پاس سال بھر کا کوئی خاص ایجنڈا نہیں ہوتا اور وہ اپنے مسائل و مصروفیات میں گرے ہوئے ہوتے ہیں ایسے میں اس جماعت کی لیڈرشب ان ایسے اہداف دیتی ہے جس کے سبب نہ صرف کارکن کا رشتہ جماعت کے ساتھ مضبوط رہتا ہے بلکہ بہت جماعتی امور بھی انجام پاتے ہیںبہر حال اس وقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے قومی اور ملی سطح پر قوم کو ایک نئی امید دی ہے اور صبح کی وہ پھوٹتی کرن بن چکی ہے جو سیاہ رات کے خاتمے کا اعلان کرتی ہے ۔لیکن ابھی راہ بڑی طویل ہے اور زاد راہ قلیل ایسے میں حکمت اور بردباری کے ساتھ ساتھ مسلسل کوشش کی سخت ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

/110