13 اپریل 2011 - 19:30

کویتی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق کویتی بحرین کے بعض افسروں اور جوانوں نے بحرین جاکر اس ملک کے عوامی مظاہروں کی سرکوبی میں حصہ لینے کے سلسلے میں وزارت دفاع کی ہدایت کو مسترد کرتے ہوئے بحرین میں اپنی رفقائے کار کے جگہ تعیناتی کے احکامات ماننے سے انکار کردیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک کویتی اخبار "الانباء" نے فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ان بحرینی فوجیوں نے اپنے انکار کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک عالم دین نے حال ہی میں فتوی دیا ہے کہ پیننسیولا شیلڈ (Peninsula Shield) افواج میں شریک ہونا اور بحرین میں عمومی مقامات کی حفاظت یا عوام کے خلاف ہر قسم کی کاروائی حرام ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ان افراد کو بہت جلد تحقیقات کے لئے متعلقہ حکام کے حوالے کیا جائے گا جہاں قانون کے مطابق ان افراد کو شدید ترین سزائیں دی جاسکتی ہیں جن میں سرکاری نوکری سے برخاستگی اور فوجی خدمت سے محرومیت جیسی سزائیں شامل ہیں۔

آل خلیفہ کی پاکستانی حامیوں کے لئے لمحہ فکریہحقیقت تو یہ ہے با ضمیر کویتی فوجی افسروں کا یہ نہایت انسانی اور جرأت مندانہ اقدام پاکستان کے ان افسروں اور جوانوں نیز ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو بحرین جا کر آل خلیفہ اور آل سعود کے مظالم میں ان کا ہاتھ بٹانے کا شوق رکھتے ہیں اور ایک نہتی قوم کو کچلنے میں شریک ہو کر اور جان و آبرو کی قیمت ادا کرکے  دنیا اور آخرت کی روسیاہی خریدنے کے لئے بے ضمیر حکام کی ضمیر فروشی کے گناہ عظیم کا حصب بن رہے ہیں۔

ایک سوال: کیا باضمیر لوگ سارے پاکستان سے باہر رہتے ہيں؟.........

/110

- بحرین میں آل خلیفہ کی ڈوبتی کشتی اور حکومت پاکستان کا کردار