اطلاعات کے مطابق قانون دانوں، انسانی حقوق کےکارکنوں اورگرفتارشدگان کےاہل خانہ نےمنامہ میں اقوام متحدہ کےدفترکےسامنےدھرنادیاجبکہ انقلابی جوانوں کااتحاد، اتوارکےدن سے ہفتہ آزادی منارہا ہے جس کے دوران مختلف پروگراموں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔دریں اثنا جرائم کاجائزہ لینے والےاتحاد کےایکزیکٹیوڈائرکٹرلوی دیب نےاعلان کیاہےکہ بحرین کی شاہی حکومت نے تقریباآٹھ سوپچاس افراد کوصرف مظاہروں میں شرکت کےجرم میں سرکاری نوکریوں سےنکال دیاگیاہے۔ادہراسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان رامین مہمان پرست نےآج تہران میں ملکی وغیرملکی صحافیوں کوپریس بریفنگ میں اس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہ اکثریت پراقلیت کی رائےمسلط کرناعین آمریت ہےکہاکہ ایران کبھی بھی پرامن مطالبات کےحامل عوام کےساتھ ہرگزتشدد آمیزرویہ اختیار کرنےکی تائیدنہيں کرتا۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نے سعودی عرب کی فوج بحرین بھیجےجانےکی طرف اشارہ کرتےہوئےکہاکہ کسی بھی ملک میں بحران کاراہ حل یہ ہےکہ اس ملک ميں ایساماحول پیداکیاجائےجس سے عوام کےمطالبات کوپہچاننے، اس کاجائزہ لینےاورانھیں پوراکرنےمیں مدد ملے اوراگرکوئي غلط راستہ انتخاب کیاگیاتو نہ صرف یہ کہ وہ مطالبات پورےنہيں ہوں گےبلکہ اس سےبحران مزيد پیچیدہ ہوجائےگا۔ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نےاس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہ اگرحکومتوں کےہاتھ عوام کےخون سےرنگین ہوجائيں گےتواس سےگہرےاور پرانےزخم پیداہوں گے جن کاعلاج کرنےمیں کافی نقصان ہوسکتاہے، کہاکہ ایسےمعاملات میں جوبحرینی عوام کےذریعے پرامن طریقےسےحل ہوسکتےہيں دوسرے ملکوں کی مداخلت، صحیح نہيں ہے۔اس سے قبل بحرین کے سیاسی رہنما یحیی علی الحدید کہہ چکے ہیں کہ بحرین میں فوجی طاقت کے استعمال سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا حکومت کو چاہئے کہ وہ عوامی مطالبات کو تسلیم کرلے ۔ پوری دنیا میں بحرینی عوام کے حق میں ہونےوالے مظاہروں اور ریلیوں کا ذکر کرتے ہوئے یحیی علی الحدیدکا کہنا تھا کہ بحرین کے عوام نے ثابت کردیا ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال کا ان پر کوئی اثر نہيں ہوگا اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہيں ہوجاتے وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ بحرین اور سعودی عرب کی فوجوں کے ہاتھوں بحرینی عوام پر کئے جارہے تشدد پر امریکہ کے موقف کو ہدف تنقید بناتے ہوئے بحرین کے اس سیاسی لیڈر کا کہنا ہے کہ امریکہ، آل خلیفہ اور علاقے کی سبھی عرب ملکوں کی شاہی حکومتوں کی حمایت کررہا ہے۔ بحرین کے جوانوں کی انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ محمد مسقطی کا خیال ہے کہ علاقے کی بعض عرب حکومتیں اس خوف سے کہیں اس احتجاج کا دائرہ ان کےملکوں تک نہ پھیل بحرین کی حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں۔واضح رہے کہ امریکہ اور علاقے کی بعض عرب حکومتیں عوامی تحریک کو کچلنے کے لئے بحرین کے بادشاہ کا بھرپور ساتھ دے رہی ہیں کہ جس پر عالمی رائے عامہ کی جانب سے کڑی تنقید کی جارہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
11 اپریل 2011 - 19:30
News ID: 236276
تشدد اور طاقت کے ذریعے قوموں کو اب مزید دبایا نہیں جاسکتا اوراس کا جیتا جاگتا نمونہ بحرین کے انقلابی جوان ہیں کہ جنہوں نے ایک بار پھر پر امن طریقے سے احتجاج کی کال دی ہے۔