4 اپریل 2011 - 19:30

یمن کے شہرتعیزمیں سیکیورٹی فورسزکی فائرنگ سے سترہ مظاہرین جاں بحق ہوگئے۔ لیبیا کے شہرمصراتہ میں قذافی کی فورسزکے حملے میں پانچ شہری ہلاک ہوئے۔ / احمدی نژاد: ایران کو دھمکی دینے والے دیکھ لیں کہ وہ بات کس سے کررہے ہیں؟

ابنا: یمن کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جنوبی شہر تعز میں مظاہرین پر پولیس نے اندھادھند فائرنگ کی جس سے سترہ افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے جب صوبائی حکومت کی عمارتوں پر ہلہ بولا تو اُنھیں پیچھے دھکیلنے کے لیے محافظوں نے اُن پر گولیاں چلا دیں۔
مغربی شہر ہودیادا Hudaida) میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے50 افراد زخمی ہو گئے۔
ادھر لیبیا میں قذافی کی حامی فورسز نے مصراتہ کے رہائشی علاقوں پرگولہ باری کی جس کے نتیجے میں پانچ شہری ہلاک اورکئی زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران عرب ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کررہا۔ مشرق وسطیٰ اورخلیجی ملکوں میں بدامنی اور انتشار امریکا پھیلارہا ہے تاکہ اسرائیل کو محفوظ بنایا جاسکے۔
انھوں نے بعض خلیجی ریاستوں کی طرف سے بعض دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو لوگ ایران کو دھمکی دیتے ہیں وہ ایران کا نقشہ اپنے سامنے رکھ کر فیصلہ کریں کہ دھمکی دینا مناسب ہے یا نہیں؟ امریکہ بھی ہمارا نقشہ اپنے سامنے رکھ کر دھمکی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا کرے اور علاقے کی ممالک بھی ایسا ہی کریں؛ وہ جب ایران سے مخاطب ہوتے ہیں تو پہلے جانچ اور پرکھ لیں اور دیکھ لیں کہ وہ بات کس سے کررہے ہیں؟  وہ اپنا نقشہ بھی دیکھیں اور ہمارا نقشہ بھی دیکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

صدر احمدی نژاد:

- خطے کی ریاستوں نے بحرین پر حملہ کرکے نہایت بھونڈا فعل انجام دیا