ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس شورائے اسلامی کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب ہر ملک سے بہتر جانتا ہے کہ خلیج فارس جیسے حساس علاقے میں آگ سے کھیلنا اس کے لئے مناسب نہيں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے سعودی حکام سے کہا کہ وہ بحرین سے اپنی فوج نکال لے۔ پارلیمان نے اپنے اس بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب علاقے میں امریکی پالیسی کی پیروی کرنے کے بجائے اپنے اور عالم اسلام کے مفاد کی فکر کرے اور علاقے کی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے بحرین سے اپنی فوج واپس بلالے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ شیعہ و سنی کا مسئلہ اٹھانا علاقے میں سامراجی قوتوں کا پرانا حربہ ہے اور برطانیہ بہت عرصے سے یہی حربہ استعمال کرتا آیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ بحرین کا مسئلہ بھی لیبیا ہی جیسا ہے بحرین کے عوام بھی آزادی اور جمہوریت کے لئے جد جہد کررہے ہيں چنانچہ بحرین میں فرقہ واریت کے مسئلے کو انقلاب کی مخالفت کی بنیاد پر پیش کرنا امریکہ اور برطانیہ کا حربہ ہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے کے حالات علاقے کی تاریخ کا رخ موڑدیں گے اور امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے تمام تر وسائل و ذرائع کے باوجود علاقے سے بھاگنے پر مجبور ہوں گے۔ اس بیان میں لیبیا کے حالات کے پیش نظر کہا گیا ہے کہ لیبیا پر فوجی کاروائی اور اس کے خلاف قرارداد کی منظوری صرف اس خوف سے کی گئی ہے کہ کہيں وہاں ایک عوامی حکومت بر سر اقتدار نہ آجائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا پر نیٹو کا ہوائی حملوں کا مقصد اس اسلامی ملک کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110