26 مارچ 2011 - 19:30

مارچ 1940 – مسلم لیگ، پاکستان اور برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے اس روز برصغیر کے کونے کونے سے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کے چونتیسویں سالانہ اجلاس کے موقع پر مسلمانوں کی آزادی اور ایک الگ وطن کے قیام کے لئے قرارداد منظور کی۔ جسے قرارداد لاہور یا قرارداد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو 1941 میں نہ صرف مسلم لیگ کے آئین کا حصہ بنی بلکہ اسی کی بنیاد پر سات سال بعد 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔

ابنا: قائداعظم محمد علی جناح نے اجلاس کی صدارت کی جس میں نواب سر شاہ نواز ممدوٹ نے استقبالیہ خطبہ دیا اور اے کے فضل الحق نے تاریخ ساز قرارداد لاہور پیش کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ”'ہندوستان کا مسئلہ فرقہ ورانہ نوعیت کا نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور اس کو اسی لحاظ سے حل کرنا چاہیے جب تک اس اساسی اور بنیادی حقیقت کو پیش نظر نہیں رکھا جائے گا جو دستور بھی بنایا جائے گا وہ چل نہیں سکے گا اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ انگریزوں اور ہندووں کے لئے بھی تباہ کن اور مضر ثابت ہو گا۔'
قائد اعظم نے کہا کہ” لفظ قوم کی ہر تعریف کی رو سے مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں اور اس لحاظ سے ان کا اپنا علیحدہ وطن، اپنا علاقہ اور اپنی مملکت ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کے کہ آزاد اور خود مختار قوم کی حثیت سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اپنی روحانی، ثقافتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو اس راہ پر زیادہ سے زیادہ ترقی دیں جو ہمارے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے نصب العین سے ہم آہنگ ہو“
مارچ 23 1940 کو مسلمانان ہند کے تمام سیاسی و مذہبی راھنما اور عوام ایک جھنڈے تلے مملکت خداداد اسلامی – جمہوریہ – پاکستان کے قیام کے واحد مقصد کیلئے ایک جھنڈے تلے کھڑے تھے۔ وہ مقصد ابھی تک مکمل نہیں ہوا کیونکہ صحیح اسلامی اور جمہوریہ کا قیام آج بھی باقی ہے۔ صرف پاکستان کا قیام عمل میں آیا جس کو 1971 میں بعد میں آنے والے ہمارے مطلبی، لالچی، بد نیت و بد دیانت، پر فریب و مکر، ریا کار سیاسی، سماجی و مذہبی راہنماؤں نے دو لخت کر دیا۔
موجودہ سیاسی، سماجی و مذہبی راہنماءکی اکثریت بھی ایسی ہے کہ اپنے اقتدار اور کرسی کے لئے قوم کو مذہبی، لسانی اور نسلی فسادات کی بھینٹ چڑھاتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے پانچ بھائیوں (پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ،گلگت بلتستان) کو روز بروز باہمی نفرت کی بھٹی میں جھونکنے والے، مسلمان کو مسلمان کے خلاف کرنے والے، زبان کے فرق کی بنیاد پر پاکستانی عوام کو لڑوانے والے در پردہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ہر غدار کی حوصلہ شکنی و پسپائی کیلئے آئیے “قرارداد پاکستان” کے تحت ہم ایک ملک و قوم کے طور پر ہمیشہ متحد و یکجا رہنے کا عظم کریں۔
بقول سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان کہ اکثر کہا کرتے ہیں ”پاکستان میں پاکستانیت کے علاوہ ہر چیز کا فروغ دیا جارہا ہے ،،
اپنی سیاسی پارٹی کا فروغ،اپنے اپنے انتخابی حلقوں کا فروغ اپنے اپنے سیاسی رہنماﺅں کا فروغ تو ہے لیکن کوئی پاکستانیوں کو پاکستانیت نہیں سیکھا رہا اس لئے ہم آج یا سیاسی تقسیم میں ہیںیا پھر سماجی ،جبکہ ان تمام چیزوں سے پہلے ہم سب کی ایک پہچان ہے وہ پاکستانی ہونا ہے دنیا اس سے پہلے کہ ہمیں مذہبی و سیاسی تقسیم سے پہچانے وہ ہمیں پاکستانی کی حثیت سے پہچانتی ہے ۔
ملک کے ذمہ دار افراد ،ارادوں ،سیاسی جماعتوں ،مذہبی حلقوںکی ذمہ داری بنتی ہے کہ قوم کو اس کی شناخت اور پہچان پر یکجا کرئے ۔
آئیے ہم سب اپنی رنجشیں، دشمنیاں، سیاسی و مذہبی رقابتیں ہمیشہ کے لئے پس پشت ڈال کر اپنے اپنے پسندیدہ سیاسی، مذہبی و معاشرتی راہنماؤں کو آمادہ کریں کہ وہ آپس میں نفاق کو ختم کر کے ملک و قوم کو صحیح معنوں میں بجلی و توانائی کے بحران، بیرونی سازشیوں، اندرونی غداروں سے نجات دلوانے کے مشن میں ملک و قوم کی راہنمائی کریں۔ اس عظیم مشن کیلئے کسی نئی یا مخصوص سیاسی، مذہبی و سماجی جماعت کے قیام کی بھی ضرورت نہیں، ضرورت محض اس بات کی ہے کی ہم اپنے اپنے راہنماؤں کی اس مشن کی جانب “راہنمائی” کریں۔ اپنے راہنماؤں اور قائدین کو ملک و قوم کو درپیش ان خطرات سے آگاہ کریں۔ آئیے ہم سب اپنے قائدین و راہنماؤں کو یقین دلائیں کہ ایک متحد و یکجا قوم بن کر اس ارض پاک میں امن و آشتی سے رہنا چاہتے ہیں۔
میں اپنے ہم وطن پاکستانیوں سے استدعا کرتا ہوں کہ ملی اتحاد و یگانگت کا پیغام خصوط، ای میلز، ایس ایم ایسز اور تمام ذرائع سے اپنے ہم وطنوں اور بالخصوص اپنے قائدین و راہنماؤں تک پہنچا ئیں اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110