ابنا: نیٹو اور قذافی کے وفادار فوجیوں کے دوطرفہ حملوں کا نشانہ بننے والے لیبیائی عوام کو انسان دوستانہ امداد کی اشد ضرورت ہے۔نوروز کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام اور خطے کی عوامی تحریکوں کی حمایت کے تناظر میں ملت ایران اور حکومت نے اس سلسلے میں اپنا فرض جانتے ہوئے لیبیا کے عوام کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان مدد کا فیصلہ کیا ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے علاقے کی عوامی تحریکوں کا جائزہ لیتے ہوئے لیبیا کے واقعات کی جانب بھی اشارہ کیا اور فرمایا کہ لیبیا کے مسئلے میں اسلامی جمہوریہ ایران حکومت کے ہاتھوں عوام کے قتل عام کی بھی مذمت کرتا ہے اور امریکہ سمیت مغربی ممالک کے حملوں کو بھی قابل مذمت جانتا ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے لیبیا کے عوام کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کرنے کے امریکہ اور مغربی ممالک کے دعوے کو بالکل ناقابل اعتبار قرار دیا اور فرمایا کہ اگر وہ واقعی لیبیا کے عوام کے خیر خواہ ہیں تو کیوں ایک مہینے تک بے گناہ عوام کے قتل عام پر مہر بہ لب بیٹھے رہے اور کوئی اقدام انجام نہیں دیا؟آپ نے فرمایا کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک لیبیا کے تیل اور اس ملک میں اپنے اڈے بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں تاکہ تیونس اور مصر کی آئندہ کی حکومتوں پر بھی نظر رکھ سکیں۔لیبیا کے سلسلے میں رہبر انقلاب اسلامی کے اس واضح اور دو ٹوک موقف کے پیش نظر حکومت ایران نےٹیونس کےسرحدی علاقوں میں سرگرداں، جنگ متاثرین کےلئےامداد روانہ کرنے کے لئے رابطے کئے ہيں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق متاثرین کے لئے ضروری امدای سامان روانہ کردیا ہے ۔اسلامی جمہوریہ ایران کی ہلال احمرکمیٹی ہلال احمرکمیٹی کےسربراہ محمدعباسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نےلیبیا کےکم سےکم 500 گھرانوں کےلئےرہائش کاانتظام کرنےاورغذائی وطبی امداد فراہم کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔توقع کی جارہی کہ دیگر ممالک بھی اس سلسلے میں فوری اقدام کریں گےاوران حالات میں لیبیا کے عوام کو جو نیٹو فورسز اور قذافی کے وفادار فوجیوں کے حملوں کی زد میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110