اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ذرائع نے کہا تھا کہ آل خلیفہ کے تا حیات وزیر خارجہ کی انتہاپسند صہیونی عہدیداروں سے ملاقات نجی اور نہایت خفیہ تھی۔ ان ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ یہ ملاقات حادثاتی نہیں تھی بلکہ خالد بن احمد نے واشنگٹن میں انتہا پسند یہودیوں کے سب سے بڑے مرکز "حباد" کا دورہ کیا اور انتہاپسند صہیونیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "مشرق وسطی میں اسرائیل کی موجودگی تاریخی حیثیت رکھتی ہے اور بحرین کی حکومت اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کی اہمیت سے واقف ہے"۔یادرہے کہ واشنگٹن میں ال خلیفہ کے سفیر "ہدی عزرا نونو" ایک یہودی ہیں جو آل خلیفہ کے وزیر خارجہ کے دورہ حباد کے وقت بھی موجود تھیں۔ کہا گیا ہے کہ آل خلیفہ کے وزیر خارجہ کی یہ ملاقات عرب لیگ کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے جو اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات کی بحالی کو منع کرتے ہیں۔ اس ملاقات کی وقت امریکی صہیونی لابی کے سینئر ترین مندوبین، امریکہ کے بدنام زمانہ صہیونی مرکز "ایپک" کے نمائندے، امریکن یہودی کمیٹی، اور بنی پریت آرگنائزیشن کے مندوبین نیز دیگر با اثر یہودی شخصیات موجود تھیں۔اسرائیل کے عبری زبان ذرائع نے لکھا تھا کہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے اس ملاقات کے دوران کہا: سب کو جان لینا چاہئے کہ مشرق وسطی میں اسرائیل کی موجودگی تاریخی حیثیت رکھتی ہے اور اسرائیل عملی طور پر بھی علاقے میں موجود ہے اور اسرائیل کا وجود ہمیشہ کے لئے باقی رہے گا!۔ خالد بن احمد نے کہا تھا: جب دوسرے لوگ بھی اس حقیقت کا ادراک کرلیں گی تو اسرائیل اور علاقے کے ممالک کے درمیان امن کا قیام بھی آسان ہوجائے گا۔واضح رہے کہ آل خلیفہ کے ولیعہد "شیخ سلمان بن حمد بن آل خلیفہ" نے بھی گذشتہ سال عرب ممالک کو "نصیحت" کی تھی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اسرائیل اخبارات کے توسط سے اپنے تعلقات بحال کریں تا کہ امن کی کوششیں زیادہ آسانی اور تیز رفتاری سے کسی اچھے نتیجے پر منتج ہوسکیں!۔شیخ سلمان کے اس بیان کے بعد اسرائیلی ذرائع نے اعلان کیا کہ مصر کے بعد اسرائیل دوسرا ملک ہے جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے تیار ہوچکا ہے۔مذکوره بالا رپورٹ نیز موجوده حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب ممالک اور بعض مفتی حضرات کیوں ہر قیمت پر آل خلیفہ خاندان کی حکومت کو بچانا چاہتے ہیں؟ اور ان کے اقدامات اور تشہیری مہم کے محرکات بھی بخوبی واضح ہوجاتے ہیں اور جو لوگ بحرین کے انقلاب کو فرقہ واریت سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں ان کے اس مذموم عمل کے اسباب بھی بخوبی ظاہر ہوتے ہیں گوکہ ان میں سے کئی اسرائیل کے خلاف گاہے بگاہے بولتے بھی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بحرینی آل خلیفہ حکمرانوں کی مانند ان کا بنیادی فریضہ اسرائیل کے مفادات کی حفاظت ہے؛ کم از کم راقم تو مذکورہ بالا رپورٹ اور علاقے کے جدید واقعات سے یھی سمجھ سکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110
آل خلیفہ کے ولی عہد صہیونی صدر شمعون پیرز سے ہاتھ ملاتے ہوئے:

اسرائیل کے ساتھ آل خلیفہ کے تعلق کا ناقابل انکار ثبوت
حمد بن عیسی آل خلیفہ اپنے اسرائیلی آقا کی خدمت میں

آل خلیفہ کے وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ حباد مرکز میں صہیونیوں کے ایک ٹاپ لیڈر سے ہاتھ ملا کر خوش ہورہے ہیں۔

آل خلیفہ کی یہودی سفیرنی "ہدی عزرا نونو"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تا ہم یہود و نصاری کی تمامتر چاپلوسی کے باوجود اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ
و لن ترضى عنك اليهود ولا النصارى حتى تتبع ملتهم
اے میرے رسول یہود و نصاری آپ سے کبھی بھی راضی نہیں ہونگے جب تک کہ آپ ان کی ملت اور ان کے [تحریف شدہ] دین کی پیروی نہیں کرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ البتہ ایک سوال ہے کہ پھر یہ یہود و نصاری آل خلیفہ، آل نہیان، آل سعود، آل صباح، آل ثانی اور عرب ممالک کے دیگر لیڈران حضرات سے کیوں اتنے راضی اور خوشنود ہیں!؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔