22 مارچ 2011 - 19:30

بدھ کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ بحرین میں صورت حال بھی بہت خطرناک ہے جبکہ ملنے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں سے مزید افراد کو قتل کیا گیا ہے اور ایک سو افراد لاپتہ ہیں اور ڈاکٹروں اور روزنامہ نویسوں کی من مانی اور بلاوجہ گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی آفس نے بحرینی حکام سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی کریں اور یہ کہ پر امن مظاہرے ہرگز جرم کے زمرے میں نہیں آتے۔یو این ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کی خاتون ترجمان روپرٹ کالویلی (Rupert Colville) نے کہا کہ بحرین کی صورت حال ابھی تک تشویشناک ہے اور ملنے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزید افراد قتل ہوئے ہیں اور 50 سے 100 تک افراد لاپتہ ہیں۔ انھوں نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو لاپتہ افراد کی لاشیں بھی ملی ہیں۔قومی وفاق اسلامی جمعیت نے منگل کے روز ایک خاتون کے قتل ہونے کی اطلاع دی ہے جنہیں جنگی ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ زخمی ہوکر کومے میں گئی تھیں جہاں ان کی موت واقع ہوئے۔کالویلی نے کہا کہ مذکورہ خاتون اس روز سے لاپتہ ہوگئی تھیں جب حکومت نے دھرنا دینے والے افراد کے خلاف کاروائی کی تھی۔انھوں نے کہا کہ بحرین میں گذشتہ ایک ہفتے میں 7 افراد شہید ہوگئے ہیں اور شہداء کی مجموعی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے سے بحرینی پولیس کو سعودی قابض فوجوں کی حمایت بھی حاصل ہے اور حکومت نے بیرونی فورسز کی مدد سے عوام کے حقیقی اور جائز مطالبات کو کچلنا چاہتی ہے۔ کالویلی نے کہا: ہمیں پریشان کن اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے والے افراد یا تو گرفتار ہوئے ہیں یا انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں انسانی حقوق کے مدافعین، سیاسی شخصیات، ڈاکٹر، نرسیں اور عام افراد شامل ہیں گوکہ بعض نرسوں کو بعد میں رہا کردیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ  ان لوگوں کے ٹیلی فون کنکشن منقطع کردیئے گئے ہیں جنہوں نے مظاہروں کے ایام میں بیرونی ذرائع ابلاغ کو رپورٹیں بھیجی تھیں اور ان کے رشتہ داروں کے ٹیلی فون کنکشنز بھی کاٹ دیئے گئے ہیں۔دریں اثناء بحرینی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بحرینی عوام نے ابھی تک مظاہروں کا سلسلہ بند نہیں کیا ہے اور وہ اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں اور بعض رپورٹوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے شیعہ سنی افتراق ڈالنے کی سازش بھی ناکام ہوگئی ہیں اور سنی اور شیعہ بحرینی یکسان طور پر بیرونی قبضے سے ناراض ہیں اور پرل اسکوائر کے انہدام کے بعد وہ سنی بھی حکومت کے خلاف ہوگئے ہیں جو اس سے قبل حکومت کے حامی تھے۔.........../110