اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین پر بیرونی حملے کے خطرے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ قابض سعودی فوج بحرین میں لمبے عرصے تک قیام کرے گی۔ بحرین کی سرکاری نیوز ایجنسی "بنا" نے ـ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی جلادوں کے بدترین اور وحشیانہ ترین اقدامات کو نظر انداز کرتے ہوئے جزیرہ نما شیلڈ کی بحرین پر قابض فورسز کے کمانڈر "مطلق بن سالم الأزیمع" کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ خلیجی فورسز نے بحرین کے اندرونی امن و امان کے قیام میں اب تک مداخلت نہیں کی ہے!الازیمع نے آل سعود فورسز کے ہاتھوں مزارات کے انہدام، حسینیات اور مساجد کی بے حرمتی، بچوں اور خواتین پر تشدد اور ہسپتالوں پر قبضے کی طرف اشارہ کئے بغیر دعوی کیا ہے کہ سعودی فورسز صرف بحرینی فوج کی چھاؤنیوں کو تقویت پہنچا رہی ہیں جو شہروں سے باہر واقع ہیں اور ان چھاؤنیوں کا عوام سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔الازیمع نے بحرین میں تین ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی کی طرف اشارہ کئے بغیر دعوی کیا ہے کہ اس وقت بحرین کو بیرونی خطرات کا سامنا ہے اور جب تک یہ خطرات باقی ہونگے ہم بھی بحرین میں تعینات رہیں گے!۔الازیمع نے سعودی فورسز کی مداخلت کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا: ہم خلیجی ممالک کے درمیان موجودہ معاہدے کے تحت اور بحرینی فرمانروا کی درخواست پر بحرین میں آئے ہیں۔ دوسری طرف سے بحرینی اپوزیشن کے ایک راہنما شیخ عادل الجمری نے خلیجی ممالک کے درمیان معاہدے کے بہانے بیرونی فورسز کی بحرین پر جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بحرین پر کوئی بیرونی حملہ نہیں ہوا ہے جس کی بنیاد پر خلیجی ممالک اس ملک میں فوجی مداخلت کرسکیں۔الازیمع نے مزید کہا کہ بحرین کے سیاسی عہدیدار اور فوجی اہلکار (یعنی خاندان آل خلیفہ کے افراد) بیرونی فورسز کے فرائض کا تعین کرتے ہیں اور اس وقت سعودی فورسز ان ہی کے کہنے پر بحرین کے فضائی اور بحری اڈوں کو تقویت دینے میں مصروف ہیں۔ اسی اثناء میں سعودی عرب میں ایک ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی فورسز بحرین میں عوامی انقلاب کی سرکوبی کے لئے اس ملک پر جارحیت کی مرتکب ہوئی ہے اور خلیجی ممالک کے درمیان سیکورٹی معاہدے کا اس اقدام سے دور دور تک بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔اس ذریعے نے فاش کیا کہ سعودی فورسز نے آل سعود اور آل خلیفہ کے درمیان ایک خفیہ اور دوطرفہ معاہدے کے تحت بحرین پر قبضہ کیا ہے جس کے تحت دونون ملکوں کے درمیان طے پایا ہے کہ دونوں مل کر علاقائی تبدیلیوں کی سمت سعودی خاندان کے مفاد میں متعین کریں گے۔ اس معاہدے کے تحت بحرینی حکومت کو بھی فوری طور پر ملک کی آبادی کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کا تیز رفتار بندوبست کرنا پڑے گا اور یوں وہ لاکھوں سعودی مہاجرین کو فوری طور شہریت دے گا۔ابنا کو ملنے والی ایک رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ خاندان نے موجودہ بحرانی کیفیت سی فائدہ اٹھاتے ہوئے شام، سعودی عرب، قطر اور کئی دیگر ممالک کے ہزاروں شہریوں کو شہریت دینے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔.........
/110