20 مارچ 2011 - 20:30

کل اتوار کے روز ہزاروں بحرینیوں نے ہنگامی حالت کے اعلان اور اندرونی نیز جارح فورسز کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے کرزکان کے علاقے میں مظاہرہ کیا اور اپنے مطالبات پر اصرار کرتے ہوئے اپنے مطالبات کو قانونی اور جائز قرار دیا۔ یہ مظاہرہ کرزکان کی جامع مسجد میں نماز جماعت کے بعد شروع ہوا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے شرکاء نے شرکاء نے آل خلیفہ مطلق العنانیت کے مظالم اور قتل عام اور جبر و تشدد نیز سعودی فورسز کی جارحیت اور ان فورسز کی جانب سے بحرین کے عوام پر مظالم ڈھائی جانے پر احتجاج کیا اور نعرے لگائے اور انھوں نے ایسے ہی نعروں کے حامل بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ العالم ٹیلی ویژن چینل کے نامہ نگار نے بتایا کہ آل خلیفہ اور آل سعود کی فورسز نے مظاہرین پر حملہ کیا جس کی وجہ سی متعدد مظاہرین زخمی ہوئے۔اطلاعات کے مطابق کرزکان کے عوام نے کل کے مظاہرے کا اہتمام "کسر الحصار" (محاصرہ شکنی) کے عنوان سے کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق آل سعود اور آل خلیفہ نے کرزکان شہر کی طرف جانے والے تمام راستوں پر چیک پوسٹ قائم کئے ہیں اور شہر آنے اور شہر سے جانے والے افراد کی تلاشی لے رہے ہیں.  دریں اثناء کرزکان کے عوام پر آل سعود کے قابض فوجیوں کے حملوں کی اطلاعات بھی ہیں۔کرزکان میں جمعہ کے روز بھی ہزاروں افراد نے ریلیاں نکالیں اور سعودی مداخلت اور آل خلیفہ حکومت کے کرتوتوں پر احتجاج کرتے ہوئے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ وہ کرزکان شہر کی سڑکوں سے آل سعود کے قابضین کے انخلاء کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔کرزکان بحرین کا مغرب میں واقع بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے اور فہد بریج کی دائیں جانب واقع ہے. 

مظاہرہ اور آل سعود اور آل خلیفہ کی افواج کا حملہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110