اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج رات قطیف میں پر امن مظاہرین پر سعودی وہابی فورسز کے حملے میں 2 شہید اور دسیوں زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کے مشرقی شہر القطیف میں ایک عینی گواہ نے بتایا کہ کئی سو مظاہرین پر امن انداز سے مظاہره کررہے تھے اور خواتین کے ہاتھوں میں پھولوں کے گلدستے تھے جب سعودی افواج نے فائرنگ کی اور بے حس کردینے والے گرنیڈ بم پھینکے جس کے نتیجے میں 2 افراد شہید اور دسیوں زخمی ہوگئے۔
آج سعودی عرب میں یوم الغضب ہے اور آج سے شروع ہونے والے انقلاب کا نام "ثورة الحنین" (انقلابِ محبت) رکھا گیا ہے۔ یہ شیعہ یا سنی انقلاب نہیں ہے بلکہ سعودی خاندان کی شخصی اور مطلق العنان حکومت کے خلاف قومی انقلاب ہے بات صرف اتنی سی ہے کہ انقلاب اور قریانیوں کا اصل آغاز شیعہ اکثریتی علاقوں سے ہوا ہے جہاں گذشتہ دنوں سے مظاہرے ہورہے ہیں۔
یاد رہے کہ پرسوں رات مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں اور آج نجد و حجاز کے 17 شہروں میں ریلیاں ہونگی جن کے خلاف سعودی خاندان کی جانب سے تشدد آمیز کاروائیوں کا امکان ہے۔
ویڈیو - 1: سعودی افواج نے پرامن ریلی پر گولی چلائی - 2 شہید دسیوں زخمی
ویڈیو - 2: سعودی افواج نے پرامن ریلی پر گولی چلائی - 2 شہید دسیوں زخمی
ویڈیو - 3: سعودی افواج نے پرامن ریلی پر گولی چلائی - 2 شہید دسیوں زخمی
یریکنگ نیوز؛ سعودی افواج نے پرامن ریلی پر گولی چلائی - 2 شہید دسیوں زخمی
........
/110


زخمی اسپتال میں
جہاں سے وہ محمد بن فہد کے حکم پر گرفتار کئے گئے

وہ سعودی پرچم اٹھا کر آئے تھے اور خواتین کے ہاتھوں میں سعودی پولیس کو پیش کرنے کے لئے پھول تھے

مگر سعودی درندوں نے انہیں محب الوطنی اور پھولوں کے بدلے گولیوں کا تحفہ دیا
ظاہر ہے کہ مظاہرین پر چلنے والی گولیاں ربڑ کی نہیں بلکہ باقاعدہ جنگی گولیاں تھیں











