6 مارچ 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ملت ایران بین الاقوامی توسیع پسند طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور وہ قوموں کے خلاف ظلم و جارحیت اور ان کے حقوق کی پائمالی کی مخالف ہے ۔

ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے اپنے ایک انٹرویومیں کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی انصاف دوستی دوطرفہ احترام اور انسانی شرافت و کرامت کے تحفظ کے اصول پر استوار ہے ۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے تعلقات ان ملکوں کے ساتھ جو ان اصولوں کی پاسداری کرتے ہيں اچھے اور مضبوط ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ چند عشروں کے تجربات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ بعض یورپی حکومتیں، عالمی جابر طاقتوں اور خصوصا صہیونیوں کے زیر اثر ہيں اور وہ اس بات کی اجازت نہيں دیتیں کہ بین الاقوامی سطح پر برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم ہوں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑی شیطانی طاقتیں اور تسلط پسند ممالک اقوام عالم کو اپنا محکوم بناکر رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں اور نہیں چاہتیں کہ قومیں اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں اور اپنی قومی دولت اور سرمائے کی خود مالک ہوں چنانچہ مغربی ممالک نہایت سفاکی کے ساتھ قوموں کی دولت وثروت کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔مثلا افغانستان کو ہی لے لیجئے کہ جہاں سات سمندر پارکرکے آنے وال نیٹو فورسز اپنے مادی اور سیاسی مفادات اور گھناؤنے عزائم کی خاطر بے گنا ہ لوگوں کا مسلسل خون بہا رہی ہیں۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ،تشدد اورمنشیات کی پیداوارمیں کئی گنااضافےکی باعث ہوئي ہے۔اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان رامین مہمان پرست نےافغانستان میں نیٹوکےکمانڈرکی جانب سے ایران پرافغان باغیوں کومسلح کرنےکےالزام کوسفید جھوٹ قراردیتےہوئےکہاکہ افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں مغرب کی فوجی موجودگی کےباعث ایک تواس ملک میں تشدد اورانتہاپسندقوتوں کی واپسی ہوئي ہے اوردوسرےمنشیات کی پیداوار اور اس کی ٹرانزٹ میں دسیوں برابراضافہ ہواہے۔وزارت خارجہ کےترجمان مہمان پرست نےکہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشتگردی اورمنشیات کےخلاف جنگ کاعلمبردارہے اورافغانستان میں دہشت گردوں کےساتھ امریکی فوج کےرابطے اوراقدامات پرگہری نظررکھے ہوئے ہے ۔ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نےمزیدکہاکہ افغانستان میں امریکی فوج کےہاتھوں بےگناہ عوام کےقتل عام سےقطع نظرکہ ابھی گذشتہ ہفتےہی دسیوں عورتوں اوربچوں سمیت ستر بےگناہ شہریوں کےمارےجانےکی خبرکی تائید بھی ہوئي ہے، منشیات کی زیادہ ترمنتقلی بگرام اورقندھارائرپورٹ سےہوتی ہے اوریہ مراکزامریکی فوج کےکنٹرول میں ہيں۔بہرحال قوموں میں آئی بیداری کی لہر کہ جس نے شمالی افریقہ سے لیکر مشرق وسطی کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے سامراجی طاقتوں کے بالا دستی اور اجارہ داری کے خاتمےکی نوید دے رہی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110