بسم اللہ الرحمن الرحیم

پکارتارہا ،بے آسرا،یتیم لہو

حسن مصطفی

عربی گھوڑے پر بیٹھ کر لہراتی ہوئی ننگی تلوار کے ساتھ انٹرویو دینے کے لئے حاضر ہونے والا اور الجزیرہ ٹی وی چینل سےانسانی حقوق کی خلاف ورزی کےسلسلے میں  ایک ڈاکو منٹری فلم کے نشر ہوتےوقت پورے لیبیا کی بجلی بند کرکے لیبیا کی سماجی ،صنعتی ،اور طبی زندگی کومفلوج کردینے والا ،سماجی برتری  کے وہم میں  مبتلا یہ دیوانہ ،اپنی سماجی برتری جتانے کے لئے دوسرے ممالک میں جاکرگیسٹ ہاوس یا فائیوسٹار ہوٹلوں کے سامنے خیمہ لگا کر بیٹھ جانے والا ،اپنی من موہی خواتین سے حفاظتی گارڈ تشکیل  دینے کے بعد ان بیچاریوں پر عمربھر کے لئے ازدواجی زندگی کو ممنوع قرار دینے والا،کبھی جوش بغاوت میں لاکروبی میں امریکیوں سے بھرے جھاز کو بم سے اڑادینے والااورکبھی شوق عبادت میں امریکہ اور برطانیہ کے پاوں میں سجدہ ریز ہونے والا، موسی صدر جیسے عظیم اسلامی لیڈر کو اغوا کرانے والا، اپنے سارے ایٹمی پلانٹ  تحفے کے طور پر امریکیوں کو بخشنے والا،اپنے ملک کےقیمتی اثاثوں کو شمالی امریکہ میں پہنچا دینے والا،یہ عظیم لیڈر جسے لاکروبی میں جہاز کو بم سے اڑانے کے بعد امریکی صدر ریگن نے ایشیاء کے قیمتی کتّے کا لقب عطا کیا تھا،بیالیس سال تک مسند اقتدار پر بیٹھ کر بین الاقوامی میڈیا کی آنکھوں کے سامنے ،انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا رہالیکن پورا یورپ اس کے جرائم پر پردے ڈالتارہا اور پورا عالم اسلام اسے اسلام کا شیدائی اور سپائی پکارتارہا۔قذافی کے مظالم کے خلاف نہ کل میڈیا نے زبان کھولی تھی نہ آج کھول رہاہے ،قذافی کل کی طرح آج بھی جو مرضی کرے وہ ہر حال میں ہمارا ہیروہے،فیض کے بقول:

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغنہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پہ نشاںنہ سرخی لب خنجرنہ رنگ نوک سناںنہ خاک پر کوئی دھبّا نہ بام پر کوئی داغکہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سارغنہ صرف خدمت شاہاں کہ خونبہا دیتےنہ دیں کی نذر کہ بیعانہ جزا دیتےنہ رزم گاہ میں برساکہ معتبر ہوتاکسی علم پہ رقم ہوکے مشتہر ہوتاپکارتارہا ،بے آسرا،یتیم لہوکسی کو بہر سماعت نہ وقت تھا نہ دماغنہ مدعی،نہ شہادت ،حساب پاک ہوایہ خون خاک نشیناں تھا،رزق خاک ہوا

hmfacts@yahoo.com       

.........

/110