1 مارچ 2011 - 20:30

بحرینی پارلیمان کے مستعفی رکن "ڈاکٹر جاسم حسین" نے کہا: بعض لوگ گدلے پانی سے مچھلی پکڑنا چاہتے ہیں اور عوام کے پر امن مظاہروں کو نسلی اور مذہبی اعتراضات کے عنوان سے بدنام کرنا چاہتے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر جاسم حسین نے کہا کہ پارلیمان کے دو ایوانوں کے سامنے عوامی دھرنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دے کر کہا: بحرینی پارلیمان کے اٹھارہ اراکین استعفا دے چکے ہیں چنانچہ پارلیمان اپنی قانونی حیثیت کھوچکی ہے اور وہ مزید معتبر نہیں رہی ہے۔

بحرینی پارلیمان سے مستعفی الوفاق دھڑے کے رکن نے الخلیفہ حکومت کے خلاف بحرینی عوام کی عظیم وحدت ریلی کو بحرین کا تاریخی قومی کارنامہ قرار دیا اور کہا: اس مظاہرے میں بحرین کی تمام جمعیتوں، گروپوں، دھڑوں اور قوم کے مختلف طبقات نے شرکت کی چنانچہ اس عظیم ریلی کو قومی کارنامہ قرار دینا ہی مناسب ہوگا۔ جاسم حسین جو کل شام کو العالم نیوز نیٹ ورک سے بات چیت کررہے تھے، نے کہا: ملک کے حکام اس مظاہرے کے بعد ـ پہلے سے کہیں زیادہ بہتر انداز سے فہم و ادراک کے اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں کہ ملکی مفاد کے تحفظ کا واحد طریقہ یہ ہے کہ حکومت مخالف دھڑوں اور معترض عوام کی بات سنی جائے۔ انھوں نے حکومت اور بعض بیرونی قوتوں کی طرف سے بحرین میں تفرقہ اور انتشار پیدا کرنے اور بحرینی قوم کو پارہ پارہ کرنے کی سازشوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا: بعض موقع پرست قوتیں قوم کے درمیان قومی اور فرقہ وارانہ فتنہ رچانا چاہتی ہیں ()تا کہ "اختلاف ڈالو اور حکومت کرو" کی پالیسی نافذ کرسکیں وہ در حقیقت گدلے پانی سے مچھلی پکڑنا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ سازشیں کامیاب نہیں ہوسکیں گی کیونکہ بحرینی قوم ـ خواہ وہ شیعہ ہوں خواہ سنی ہوں ـ آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ہماری بیدار و ہوشیار اور تہذیب یافتہ اور متحد قوم نظام حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا: ہماری قوم کا مسئلہ گروہی اور مذہبی اختلافات نہیں ہیں بلکہ ہمارا مسئلہ مطلق العنان آمریت و استبداد ہے اور ہماری قوم ایک عوامی حکومت کا قیام اور ملکی مقدرات کے تعین میں کردار ادا کرنے کا حق چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا: بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آل خلیفہ حکومت نے انٹرنیٹ کنکشن کاٹ دیئے ہیں اور اگر ایسا ہے تو یہ ایک نہایت المناک اور افسوسناک اقدام ہے جس سے ملک کے تجارتی تعلقات اور عالمی سطح پر ملک کی ساکھ پر نہایت منفی اثرات مرتب ہونگے۔انھوں نے کہا کہ 40 ارکان کی پارلیمان سے 18 اراکین کے مستعفی ہونے کے بعد بحرینی پارلیمان اپنی قانونی حیثیت کھوگئی ہے اور اب یہ پارلیمان عوام کی نمائندگی کے حق سے بھی محروم ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ بحرین کے عوام نے کل پارلیمان کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے اور اس کی کارکردگی پر تنقید کرنے کی غرض سے انسانی زنجیر تشکیل دے کر مجلس شوری اور مجلس وکلاء (پارلیمان کے دو ایوانوں) کو علامتی طور پر گھیرے میں لے لیا اور پارلیمان کے باقی ماندہ اراکین کو پارلیمان میں داخل نہیں ہونے دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110