1 مارچ 2011 - 20:30

لوءلوءاسکوائر میں دھرنا لگائے بیٹھے جوان لڑکے اور لڑکیوں کا کہنا ہے کہ بادشاہت کو اب چلتا کرنا چاہیے وہ بنیادی طور پر بادشاہی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں ان کے لبوں پر ”الشعب یرید اسقاط النظام “یعنی عوام اس سسٹم کا خاتمہ چاہتی ہے کے نعرے ہیں ۔

بحرین میں اب تیسرا ہفتہ شروع ہوچکا ہے کہ مسلسل لاکھوں افراد کی ریلیاں منعقد ہورہیں ہیں جن کا مطالبہ حکومت کا خاتمہ اور ترمیم شدہ آئین کے مطابق نئی حکومت کی تشکیل ہے ترمیم شدہ آئین وہ آئین ہے جس پرخود بحرین کے بادشاہ نے دستخط کئے ہیں اور اس آئین کے مطابق بادشاہ کے آئینی اختیارات انتہائی محدود ہیں جبکہ وہ ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر اپنے بیٹے کو بھی نہیں بیٹھا سکتے لیکن پرل یا لوءلوءاسکوائر میں دھرنا لگائے بیٹھے جوان لڑکے اور لڑکیاں صرف اس بات پر اکتفاءکرنے کو تیار نہیں بلکہ ان کہنا ہے کہ بادشاہت کو اب چلتا کرنا چاہیے وہ بنیادی طور پر بادشاہی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں ان کے لبوں پر ”الشعب یرید اسقاط النظام “یعنی عوام اس سسٹم کا خاتمہ چاہتی ہے کے نعرے ہیں ۔

لوءلوءمیدان میں دھرنا لگائے افراد اس قدر منظم اور باخبر ہیں کہ ان سے کسی بھی قسم کی توقع کی جاسکتی ہے ان کا ہرکام انتہائی پلان شدہ اور مرحلہ وار نظرآتا ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اسے کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔لوءلوءمیدان میں ڈش انٹینا اور بڑی بڑی ٹی وی سکرینوں کے زریعے دنیا بھر کے حالات اور تجزیوں سے واقف ہیں ،لوءلوءمیدان میں دن رات مختلف محفلوں اور پروگراموں کا انتظام موجود ہے ،باجماعت نماز سے لیکر ،مظاہرے میں شہید ہونے والوں کے لئے قرآن خوانی و مجالس ترحیم کا انعقاد ،اور سیاسی و سماجی موضوعات پر گفتگو شنید ،بحرین کے مختلف شعراءعلماءکرام تشریف لاتے ہیں اور ان کی استقامت اور موقف کو مزید مضبوطی بخشتے ہیں ان دہرنا لگانے والوں میں جوان بوڑھے ،خواتین یہاں تک فیملیاں بھی موجود ہیں میدان لوءلوءدر حقیقت ایک ایسی سوسائٹی میں تبدیل ہوا ہے جہاں ہر قسم کے حالات اور ضروریات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔لوءلوءمیدان میں ایک بڑی تعداد شیعہ اور سنی علمائے کرام کی بھی ہے جو دھرنے کی قیادت کر رہے ہیں ادھر لیبیا کا نفسیاتی مریض ڈکٹیٹرمی قذافی اپنے تازہ ترین انٹریو میں کہتے ہیں کہ کہیںکوئی احتجاج نہیں ہورہا ہے بلکہ عوام مجھ سے عشق رکھتی ہے مجھ پر مرنے کے لئے تیار ہے اور یہ سب مظاہرئے صرف میری حمایت میں ہی ہورہے ہیں ۔البتہ قذافی کی مراد وہ عوام ہے جو صرف چند سو افراد پر مشتمل ان کے صدارتی محل کے سامنے کھڑی ہے یا پھر چند دنوں پہلے تک ان کی خاص اوکرانی نرس (جیسے عرب فاتنہ یعنی آفت کی پرکالا کہا کرتے ہیں )جو محل کے سامنے کھڑے افراد کو اپنے رقص سے مصروف رکھے ہوئے تھی اور اب تو وہ بھی ساتھ چھوڑ گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110