1 مارچ 2011 - 20:30

بحرین کی ڈموکریٹک سوسائٹی کے سیکریٹری جنرل نے، بحرین کے معاملات میں سعودی عرب کی مداخلت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق، لبنان کی قومی ڈموکریٹک جمعیت کے سیکریٹری جنرل "فاضل عباس" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بحرین کے مسائل میں سعودی عرب کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب بحرینی عوام کے احتجاجات کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں نہایت منفی کردار ادار کررہا ہے۔ مصری روزنامے "مصری الیوم" نے عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب اور بحرین کے درمیان فہد پل سے متعدد سعودی ٹینک بحرین میں داخل ہوئے ہیں۔ اس روزنامے نے لکھا ہے کہ سعودی عرب بحرینی عوام کا قیام کچلنے کی غرض سے تیس ٹینک بحرین میں داخل کئے ہیں۔دریں اثناء عباس فاضل نے کہا: اس وقت ہمارا بڑا مسئلہ آل خلیفہ خاندان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سعودی مداخلت اور سعودی عرب کی ریشہ دوانیاں ہمارے لئے مسائل کھڑے کررہی ہے۔  فاضل عباس نے کہا: سعودی عرب نے مصر کے انقلاب میں بھی منفی کردار ادا کیا اور مصری عوام کی خواہش اور مرضی کے برعکس حسنی مبارک کا اقتدار بچانے کی کوشش کرتا رہا اور اس وقت اس کی کوشش ہے کہ بحرین میں ہر قسم کی اصلاحات کا راستہ روک لے۔انھوں نے کہا: بحرینی عوام کے لئے جو چیزیں بہت خطرناک ہیں ان میں ایک سعودی عرب کی بے جا مداخلت ہے اور دوسری چیز بحرین کے اندر سعودی عرب سے وابستہ انتہاپسند افراد ہیں۔انھوں نے کہا: بحرینی عوام سابقہ ادوار سے مختلف ہیں اور کسی صورت میں بھی اپنے مطالبات سے پسپائی اختیار نہیں کریں گے اور تھکاوٹ محسوس نہیں کریں گے بلکہ ملک پر مسلط نظام آخر کار تھک جائے گا اور مجبور ہوکر عوام کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا۔فاضل عباس نے کہا: آل خلیفہ کے مخالفین نے آل خلیفہ حکام کے ساتھ بات چیت کی پیشکش مسترد نہیں کی ہے بلکہ اسی زمانے سے مذاکرات کے خواہاں ہیں جب نو سال قبل 14 فروری 2002 کے روز آئین کے خلاف بغاوت ہوئی۔یاد رہے کہ 2002 میں موجود شیخ حمد بن عیسی بن سلمان آل خلیفہ نے اپنے والد شیخ عیسی کی روایت پر عمل کرتے ہوئے انہیں (شیخ عیسی کو) ـ جو یورپ کے دورے پر تھے ـ اقتدار سے الگ کردیا اور امارت کو شہنشاہیت میں تبدیل کرتے ہوئے بادشاہ کے عنوان سے اقتدار تخت نشین ہوا تھا۔ فاضل عباس نے بحرینی ولیعہد کے اس کے دعوے کی تردید کی کہ اپوزیش رہنما آل خلیفہ سے بات چیت کو رد کرتے ہیں اور انھوں نے ملکی نظام کو معطل کررکھا ہے۔ انھوں نے ولیعہد کے مذکورہ موقف سے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: بحرین کو اس سے قبل معاشی بحران، آل خلیفہ خاندان کی وسیع بدعنوانیوں کا سامنا تھا جس کی وجہ سے ملکی سرمایہ بڑی تیزی سے ملک سے نکل رہا تھا اور سرمایہ بیرون ملک منتقلی وسیع مالیاتی اقتصادی بحران کا سبب بن رہی تھی۔ انھوں نے کہا: بحرین کے سیاسی دھڑوں اور راہنماؤں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور ان شرائط پر صلاح مشورے ہورہے ہیں جن پر حکومت عملدرآمد کرے گی تو اس سے بات چیت کی راہ ہموار ہوسکے گی۔ عباس نے کہا: آل خلیفہ حکومت جانتی ہے کہ اصل مشکل 2002 کے آئین میں ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ آئین منسوخ کیا جائے اور نیا آئین تدوین کیا جائے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ نظام حکومت نے ابھی تک مذاکرات کے لئے مناسب ماحول تیار کرنے میں ناکام رہا ہے؛ مثلاً اس نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا لیکن سارے قیدیوں کو رہا نہیں کیا اور بڑی تعداد میں قیدی ابھی تک قید و بند اور توہین و بے حرمتی جھیل رہے ہیں اور عوام پر گولی چلانے والوں کا سراغ لگانے کے لئے بنائی جانے والی کمیٹی ابھی تک اپنی کارکردگی کے بارے میں کوئی رپورٹ پیش نہیں کرسکی ہے اور جو وزراء فائرنگ کے کیس میں بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر ملوث تھے وہ بھی اپنے مناصب پر ہنوز باقی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110