جنگ ڈاٹ نیٹ:
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق لیبیا میں جاری ہنگامہ آرائی اور حکومت کی طرف سے احتجاج کرنے والوں پر طاقت کے استعمال کی وجہ سے عالمی برادری نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔امریکی وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لیبیا کے 30 ارب ڈالر کے اثاثوں کو منجمد کردیا ہے۔پاکستان میں کام کرنے والی پاک لیبیا ہولڈنگ کمپنی کے منتظمِ اعلیٰ کمال الدین خان نے کہا ہے کہ ادارہ نجی شعبے میں کام کر رہا ہے اور اس پر عالمی سطح پر عائد کی جانے والی پابندی کے اثرات مرتب نہیں ہونگے۔
ابنا ڈاٹ آئی آر:
امریکیوں کو لیبیا میں کوئی کرزئی میسر نہ آیا جبکہ لیبیائی انقلابیوں نے بنغازی میں عبوری حکومت بھی تشکیل دی ہے چنانچہ اب جبکہ قذافی کی مزید حمایت ممکن نہیں رہی تو انھوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے لیبیا کے مستقبل میں شریک ہوکر اور خون اور تیل کے دو دریاؤں کے درمیان غوطہ زن ہوکر تیل تک پہنچنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور لیبیا کے اثاثے منجمد کرنے کا مقصد بھی یہی ہے۔ دوسری طرف سے لیبیا کے قسی القلب اور جنونی آمر قذافی کی امریکا دشمنی کا پول بھی کھل گیا ہے اور ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر امریکہ آپ کا دشمن تھا تو آپ کے تیس ارب ڈالر امریکا میں کس طرح پہنچی ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110