ابنا: قاہرہ سے بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حسنی مبارک کی قیادت اپنے ملک کے وجود کو خطرے میں تصور کرتی ہے ۔ مصر کو خدشہ ہے کہ دریائے نیل کے اوپری حصے پر واقع ممالک نے اگر سالانہ کوٹہ ساڑھے پچپن بلین کیوبک میٹر سے زیادہ پانی استعمال کیا تو مصر میں خشک سالی جنم لے گی ۔ کینیا ، تنزانیہ اور یوگنڈا کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث بارش پر انحصار نہیں کیا جاسکتا لہذا زراعت ، توانائی ، ماہی گیری اور پانی پر انحصار کرنیوالی صنعتوں کیلئے اب ضروری ہوچکا ہے کہ دریائے نیل سے پانی حاصل کیا جائے ۔ دنیا کا سب بڑا دریا دریائے نیل ، شمالی افریقا ، وسطی اور مشرقی حصے کے لاکھوں افراد کیلئے پانی کا سب سے اہم وسیلہ ہے ۔ حال ہی میں ماہرین یہ امکان بھی ظاہر کرچکے ہیں کہ دریائے نیل ، پانی کے معاملے پر جنگ کا سبب نہ بن جائے ۔
.......
/110