ابنا: فارس نیوزایجنسی کی رپورٹ کےمطابق بحرین کےسیکڑوں ادیبوں، وکیلوں ، فنکاروں، مصنفین اور بحرین کی سیاسی وسماجی تنظیموں نے الذالہ اسکوائرسےشروع ہوکرپرل اسکوائرپرپہنچ کر اختتام پذیرہونےوالےمظاہروں میں، قومی اتحاد برقرار رکھنےاورمذہبی فتنےسےبچتےرہنےپرتاکید کی جسےبعض لوگ ہوا دےرہےہیں۔
احتجاجی مظاہرین نعرےلگارہےتھے کہ ، شیعہ وسنی بھائی ہیں۔ شیعہ اورسنی بحرین کےخدمت گذار ہيں۔ ہم اپنےملک کواغیارکےہاتھوں نہيں بیچیں گے۔ مظاہرین تمام بحرینیوں کےدرمیان اتحاد پرزور دے رہےتھے۔
واضح رہےکہ بحرین کےعوام منگل کوبھی لولواسکوائرپرزبردست احتجاجی مظاہرےکرنےوالےہیں۔
بحرینی تنظیموں اوراداروں نےان مظاہروں کی حمایت کی ہے۔
بحرین کی پارلمینٹ میں جمعیت اسلامی وفاق کےنمائندےعلی الاسود نےالعالم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بحرین کےمخالف سیاسی گروہ حکومت کےساتھ سرے سےمذاکرات کےخلاف نہيں ہيں لیکن یہ مذاکرات موجود ہ حکومت کےاستعفےکےبعد ہی ممکن ہيں۔
درایں اثنا بحرین کی جمعیت وفاق کےاٹھارہ اراکین پارلیمنٹ نےمظاہرین کےمطالبات پرکوئی توجہ نہ دیئے جانے کی بناپراستعفی دےدیاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110