26 فروری 2011 - 20:30

صہیونی اور امریکی ذرایع ابلاغ نے ایران کے ان جنگي جہازوں کے شام جانے پر امریکی اورصہیونی ذرائع ا بلاغ نے غم وغصے کا اظہار کیا ہےجس سے ان کی بے چارگي ظاہر ہوتی ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے کمانڈر نے کہا ہےکہ بحریہ کے جنگي جہازوں کا پروگرام عالمی قوانین کے مطابق ہے۔ ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے گذشتہ شب نےشام کی بندرگاہ لاذقیہ میں لنگر انداز ایرانی جنگي جہازوں کے عملے سے خطاب میں کہا کہ ایران کے بحری جہاز علاقائي اور اسلامی ملکوں کے لئے امن وصلح کا پیغام رکھتےہیں۔ انہوں نے کہا ایرانی جنگي جہاز ملکوں گے تعلقات میں استحکام لانے کےلئے بحر روم میں داخل ہوئےہیں۔ یادرہے اسلامی جمہوریہ ایران بحریہ کے خارک اور ایران الوند نامی بحری جہاز اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے پہلی مرتبہ سوئز کینال سے ہوتے ہوئے شام کی بندرگاہ لاذقیہ پہنچے ہیں۔ صہیونی اور امریکی ذرایع ابلاغ نے ایران کے ان جنگي جہازوں کے شام جانے پر امریکی اورصہیونی ذرائع ا بلاغ نے غم وغصے کا اظہار کیا ہےجس سے ان کی بے چارگي ظاہر ہوتی ہے۔

اسرائیل سے مرعوب ہوئے بغیر پروگرام جاری رکھیں گے  اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی بحریہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ بحیرہ روم اور شام کے لئے ایران کے جنگی جہازوں کا سفر علاقے کے ملکوں کے لئے امن و دوستی کا پیغام پہنچانے کے لئے ہے ۔ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے شام کے دارالحکومت دمشق پہنچنے پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہر ملک کی بحریہ کے پاس بحری جنگی جہاز ہيں اور بحریہ کے جہاز ایک دوسرے کے ملکوں کا سفر بھی کرتے ہیں جو ملکوں کی بحریہ کے درمیان مرسوم ہے ۔ایران کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے بحیرہ روم میں ایران کے بحری جنگی جہازوں کے سفر پر صہیونی حکومت کی ناراضگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ صہیونی حکومت خود اپنے طور پر پریشان ہو اور وہ اپنے اعتبار سے ایران کے بحری جنگی جہازوں کے سفر کو دیکھ رہی ہو لیکن ایرانی بحریہ اپنے پروگرام اور علاقے و دوست ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنیاد پر اپنا مشن جاری رکھے گی ۔ ایرانی فوج کی بحریہ کے سربراہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران کے بحری جنگی جہاز مصر کی ہم آہنگی سے سوئز کینل سے گذرے ہیں کہا کہ شام کی بحریہ کے حکام سے ملاقات اس سفر کا حصہ ہے ۔ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد پہلی بار ایران کےبحری جنگی جہاز نہر سوئز سے گذرکر بحیرہ روم میں داخل ہوئے ہيں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110