اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں میں لیبیا کے قاتل اور سفاک آمر کی سرنگونی مندرجہ ذیل شواہد کی بنیاد پر ممکن ہے:* مشرقی علاقوں پر انقلابیوں کا کنٹرول مکمل ہوگیا ہے.* مختلف شہروں میں پولیس اور فوج عوامی احتجاج میں شامل ہوگئی ہے اور افریقی کرائے کے قاتلوں اور قذافی کے حامیوں کے خلاف جنگ لڑرہی ہے۔* مختلف شہروں میں انقلابی نوجوانوں نے مختلف شہروں میں چیک پوسٹ قائم کئے ہوئے ہیں اور آنے اور جانے والے لوگوں کو کنٹرول کررہے ہیں۔* قذافی کے انقلابی گارڈز کی بڑی تعداد نے بھی عوام کے ساتھ مل کر قذافی سے بیزاری کا اعلان کیا ہے۔ * کئی ہواباز اپنے طیارے فضا میں چھوڑ کر پیراشوٹ کے ذریعے اتر کر عوام سے جاملے ہیں جبکہ بعض دیگر طیاروں سمیت ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔ انہیں عوام پر بمباری کے احکامات ملے تھے۔* لیبیائی آمر کا چھوٹا بیٹا سیف العرب انقلابیوں سے جا ملا ہے۔* لیبیائی عوام معمر قذافی کی تقاریر کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کی اطاعت سے بیزار ہوچکے ہیں اور اکثر نوجوان مسلح ہوکر قذافی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے قذافی کا پرچم تبدیل کرکے لیبیا کا پرانا پرچم زندہ کردیا ہے، قذافی کی تصویریں نیست و نابود کردی ہیں، قذافی کی سبز کتاب (قذافی کے آئین) کو نیست و نابود کردیا ہے۔ * عوام نے سینکڑوں ـ اور بعض ذرائع کے مطابق ہزاروں ـ شہیدوں کی میتیں دفن کردی ہیں اور پورا ملک قذافی کے ہاتھ سی نکل گیا ہے صرف طرابلس کے بعض حصے اس اور اس کے بیٹوں کے مسلح گماشتوں کی موجودگی کے باعث قذافی کے قابو میں ہیں۔ان سارے حقائق کے پیش نظر بعید از قیاس نہیں ہے کہ لیبیائی عوام اپنے پڑوسی مصر اور تیونس کے عوام کی مانند، آئندہ چند گھنٹوں میں اپنے آمر کی سرنگونی کی خوشخبری سن ہی لیں۔
قذافی کریں گے کیا؟روس نے قذافی کو پناہ دینے کی پیشکش کی ہے، اسرائیل نے کہا ہے کہ قذافی کی ماں اور نانی یہودی ہیں اور وہ یہودی خون تصور کئے جاتے ہیں لہذا اسرائیلی قانون اور یہودی دیانت کے مطابق انہیں اسرائیل میں پناہ لینے کا حق حاصل ہے، اطالوی وزیر اعظم کے قذافی کے ساته قریبی تعلقات ہیں اور اٹلی بھی انہیں پناہ دینے میں تأمل نہیں کرے گا جبکہ ان کے بیٹے سیف العرب اور ایک مستعفی وزیر نے کہا ہے کہ قذافی کے پاس دو ہی راستے ہیں:1. خودکشی.2. کسی لاطینی امریکی ملک میں پناہ لینا۔........../110