اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جنگ نے لکھا:کائنات اور قدرت کے چھپے بھید کھوجنا انسانی عقل کے بس کی بات نہیں اس کی تازہ ترین مثال بحرین کے صحرا میں چار صدیوں سے بڑھتے پھولتے سرسبز درخت کی گتھی بھی ہے جو سائنسدانوں اور ماہرین حیاتیات کے لیے ماورائے عقل ثابت ہورہی ہے۔ بحرین کی سب سے اونچے پہاڑی ٹیلے جبل الدخان سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر25میٹر اونچائی پر واقعTree of Lifeنامی درخت ناصرف صحرا بیاباں میں پوری شان و شوکت اور تازگی سے ایستادہ ہے بلکہ ہر موسم میں سرسبز نظر آتا ہے۔انتہائی سخت موسم اور صورتحال میں نشوونما پاتے اس درخت کی گتھی انسانی عقل اور سمجھ بوجھ سے بالاتر ہے جبکہ سائنسدانوں اور ماہرینِ حیاتیات کے لیے اس معمے کو سلجھانا کسی چیلنج سے کم نہیں۔400سال سے بناء پانی کے سخت گرم موسم میں پھلتے پھولتے اس درخت نے بحرین میں ایک سیاحتی درجہ حاصل کرلیا ہے جہاں ناصرف مقامی بلکہ غیر ملکی سیاح بھی جوق در جوق جاتے نظر آتے ہیں۔ عجیب ہے یہ صحافت کی دنیا بھی جس میں کئی لوگ پیشہ ورانہ مہارت کے دعویدار ہیں اور کسی جب وہ ملک کی تازہ ترین اور اہم ترین واقعات کو نظر انداز کرتے ہیں اور اپنے ذاتی حب و بغض کو صحافت میں شامل کرکے رائے عامہ کو اصل واقعات منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ بھی ایسے زمانے میں کہ جب کوئی بھی ابلاغی ذریعہ ہرگز یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ دنیا والوں کو خبررسانی صرف اسی کے ذمے ہے اور دنیا والے کسی اور ذریعے کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ کیا بہتر نہیں ہے کہ کوئی ذریعہ ابلاغ اگر کسی واقعے کو ذاتی یا فرقہ وارانہ یا سیاسی حب و بغض کی وجہ سی نظر انداز کرنا چاہتا ہے تو جس علاقے میں ایسے واقعات رونما ہورہے ہوں اس میں کھڑے ایک پرانے درخت کی خبر کو بھی نظرانداز ہی کردیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
جنگ نیٹ کی خبر اور درخت کی تصویر:
- بحرین:صحرا میں پوری شان و شوکت اور تازگی سے ایستادہ سرسبز درخت
