ابنا: بحرینی مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرلئے جاتے اس وقت تک ان کے یہ مظاہرے جاری رہیں گے ۔ گذشتہ جمعرات کو بحرینی مظاہرین پر فوج کے حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے اور پھر جاں بحق ہونےوالوں کی تشیع جنازے میں موجود لوگوں کی بھیڑ پر فوج کی انددھند فائرنگ سے دسیوں افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ اطلاعات میں کہا جارہا ہے کہ بحرینی مظاہرین کو کچلنے کے لئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے اپنے اپنے فوجیوں کو منامہ روانہ کیا ہے جبکہ مغربی ملکوں کے فوجی مبصرین بھی بحرینی فوجیوں کی مدد کررہے ہيں ۔ اگرچہ بحرینی فوج اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین کو کچلنے کی ناکام کو شش کی گئی مگراس کے باوجود بحرین کے شاہی نظام پر لرزہ طاری ہے اور ایسی بھی خبریں آرہی ہيں کہ بحرین کے بادشاہ نے ملک سے فرار کا بھی پروگرام بنالیا ہے ۔ دوسری طرف فوج کے ذریعہ بحرینی عوام کو کچلنے کے وحشیانہ اقدام کے بعد مبصرین کا کہنا ہے کہ بحرین کی حکومت نے مظاہرین کے خلاف وہی حربہ اپنایا ہے جو مصر کے مفرور صدر حسنی مبارک نے اپنایا تھا مگرنہ تو حسنی مبارک اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکے اور نہ ہی بحرینی شاہی نظام اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکے گا ۔ ایک ایسے وقت جب بحرین کے تمام طبقوں نے حکومت کے خلاف ایک ہو کر یہ تحریک شروع کی ہے بحرین کے بادشاہ نے مغربی ملکوں کی سازشوں اور ہتھکنڈوں کو اپنا تے ہوئے ملک میں فرقہ وارانہ اختلاف پیدا کرنے کی کوشش شروع کردی ہے بحرین کے بادشاہ نے کہا کہ یہ مظاہرے ملک کے ایک خاص طبقے کی طرف سے کئے جارہے ہيں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بحرین کے تمام طبقوں نے خواہ وہ اکثریتی شیعہ طبقہ ہو یا پھر اقلیتی سنی طبقہ ، سب نے شاہی نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا ایک ساتھ فیصلہ کیا ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عرب ملکوں کے وہ حکام جہاں موروثی نظام حکومت چلا آرہا ہے یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہيں کررہے ہيں کہ پورے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے عوام کے احتجاج کا ایجنڈا ایک ہی ہے ۔ ان سبھی ملکوں کے عوام امریکہ اور استکباری طاقتوں سے اپنے اپنے حکمرانوں کی وابستگی سے تنگ آچکے ہيں اور بڑی طاقتوں سے وابستگی کی بناپر ان کے حقوق مسلسل پائمال ہورہے ہیں ساتھ ہی اسلامی اور انسانی اقدار کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے ، یہی وہ مسائل ہيں جن کے پیش نظر آج پورے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہيں۔ اس لئے مصر، تیونس، یمن، اردن اور لیبیاء میں جہاں اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے شدت کے ساتھ جاری حکومت مخالف تحریکوں کے پیش نظر یہ کہنا کہ بحرین میں شیعہ مسلمانوں کی ہی طرف سے یہ تحریک شروع ہوئی ہے بہت ہی مضحکہ خیز امر ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج پورے عالم عرب کا مسئلہ ایک ہے اور وہ اپنے ملکوں میں امریکہ اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کو اب اسے زیادہ برداشت کرنے کو تیار نہيں ہيں ۔اس میں شک نہيں کہ اگر یہ حکومتیں خاص طور پر بحرین کی حکومت اپنے ملک کے شہریوں کے پر امن مظاہروں کو کچلنے کی کوشش کرے گی تو اس کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس سے عوام کے عزم و ارادے اور زیادہ مستحکم ہوں گے اور پھر حکومت کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہيں ہوگا کہ وہ عوام کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دے، ویسے بھی اس وقت بحرین کی فوج اور سیکورٹی فورسز عوام کے مظاہروں کو دبانے میں بے بس ہوچکی ہے اور منامہ میں اس وقت بہت سے حساس اور سرکاری مراکز پر عوام کا کنٹرول ہوچکا ہے اسی لئے خود بحرین کی سیاسی شخصیتوں کا کہنا ہے کہ اب حکومت بحرین کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہيں ہے کہ وہ اپنے ملک کے انقلابی جوانوں کے مطالبات کا مثبت جواب دے.
.......
/119