ابنا: الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لیبیا میں عوامی مظاہروں میں 24 افراد ہلاک ہوگئے ہیں تیونس و مصر کے بعد اردن ، یمن ، بحرین اور دیگر عرب ممالک میں امریکی اور اسرائیلی عرب غلام حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کو اقتدار سے الگ کرنے کے لئے عرب عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لیبیا میں عوام نے کرنل قذافی کی بڑی بڑی تصویریوں کو آگ لگادی اور لوگ کرنل قذافی کے اقتدار سے الگ کرنے کے عزم پر قائم ہیں اب تک 24 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ صرف لییبا میں مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چوبیس ہو چکی ہے۔لیبیا میں حکومت کے خلاف ’یومِ غضب‘کے دن کے موقع پر لیبیا کا دوسرا بڑا شہر بِن غازی حکومت مخالفت سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا اور مظاہروں کا سلسلہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بھی جاری رہا۔حزبِ اختلاف نے الزام لگایا ہے کہ مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ میں متعدد افراد مارے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔بن غازی کے ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاں دس لاشیں لائی گئی ہیں جبکہ حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مرنے والوں کی تعداد چوبیس ہے جن میں سے بیشتر پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بنے جو انہیں منتشر کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ واضح رہے کہعرب عوام نے عرب خطے سے امریکہ اور اسرائیل نواز عرب حکام کے خاتمہ کا پختہ عزم کررکھا ہے ، امریکہ عرب عوام کے انقلاب کو منحرف کرنے کی بھر پور کوشش کررہا ہے امریکہ نےاپنے عرب غلاموں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ادھر مصر اور تیونس سے فرار ہونے والے صدر بن علی اور حسنی مبارک دونوں کوما میں ہیں ایک پر فالج کا حملہ ہوا ہے جبکہ دوسرے کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔
دریں اثناء ابنا کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ تین دنوں میں لیبیا میں 84 مظاہرین ہلاک سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔
.........
/110