اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خالد بن احمد آل خلیفہ نے دعوی کیا کہ "بحرین کی بادشاہی مملکت میں کسی وقت بھی عوام کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں ہوا ہے اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوگا".وزیر خارجہ میدان اللؤلؤة پر ٹینکوں کے حملے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا.انھوں نے کہا کہ جن اصلاحات کا وعدہ دیا گیا تھا ان پر علمدرآمد بادشاہ کے ایجنڈے میں شامل ہے جس میں اقتدار کی تقسیم، انسانی حقوق کی رعایت اور بیان کی آزادی شامل ہے!۔انھوں نے مزید کہا: قتل ہونے والے نوجوانوں کے بارے میں تحقیقات کے لئے نائب وزیراعظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور یہ کمیٹی غیرجانبدارانہ اور شفاف طریقے سے تحقیقات کرے گی۔ جبکہ وزارت داخلہ نے بھی نوجوانوں کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بیان کی آزادی آئین اور ملکی قوانین کے دائرے میں، عوام کا حق ہے اور سب کو اس حق کا احترام کرنا چاہئے۔لیکن عجیب یہ ہے کہ قاتل بھی آل خلیفہ کے افراد ہیں، گرفتار ہونے والے بھی ان ہی کے گماشتے بھی وہی ہیں، گرفتار کرنے والے بھی وہی ہیں، عوام کےی حقوق پامال کرنے والے بھی آل خلیفہ کے خاندان کے افراد ہیں، تحقیقات کرنے والے بھی وہی ہیں اور فیصلہ سنانے والے بھی وہی ہیں جو قاتل ہیں اور حقوق کو پامال کرنے والے ہیں۔ مدعی، مدعا علیہ، قاضی، پولیس سب کے سب آل خلیفہ ہیں تو انصاف کی توقع کیونکر ممکن ہوگی؟
17 فروری 2011 - 20:30
News ID: 226968
بحرین کی استبدادی / شخصی (ون فیملی) گورنمنٹ کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "جو احتجاجات بحرین میں دکھائی دے رہے ہیں وہ صرف جمہوریت پسند ممالک میں دکھائی دے سکتے ہیں."