26 فروری 2011 - 20:30

میدان لؤلؤة میں اجتماع جاریا / بادشاہ ذمہ دار ہے / شہید کے جلوس جنازہ کی تیاریاں/ نہ شیعہ نہ سنی/ بحرینی حاکم کا کروڑوں پونڈ کا قصر / کل کے شہید کا جلوس جنازہ منامہ میں / پولیس غائب ہے / جلوس جنازہ میں شرکت کی پاداش میں برخاستگی ...

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے مظلوم عوام کے یوم الغضب کا آغاز ہوگیا ہے اور بدھ کے روز ملک کی حالت بالکل مختلف ہے بحرین کے میدان اللؤلؤة میں اکٹھے ہونے والے مظاہرین نے اس میدان کا نام بدل کر میدان التحریر رکھ لیا ہے۔

صبح 0:05 بجے: میدن اللؤلؤة (موتی چوک) میں دھرنا جاری 

لوگوں نے میدان میں قیام کرنی کے لئے خیمے لگائے اور اعلان کیا کہ مطالبات مکمل ہونے تک دھرنا دیں گے۔

انہوں نے میدان کی ارد گرد پلی کاردز نصب کردیئی اور حاکم خاندان کی برطرفی اور تین شہیدوں کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

صبح 00:40  بجے ـ بادشاہ ذمہ دار ہے

ایک بحرینی سیاستدان نے العالم چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی بادشاہ ایک طرف سے شہیدوں کے قاتلوں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی بات کرتے ہیں جبکہ ہم سب جانتی ہیں کہ لوگوں کی ناراضگی کا باعث بننے والے مسائل اور بیرون ملکیوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کرنے جیسے اعمال ان کے براہ راست احکامات کا نتیجہ ہیں۔

علی مشیمع نے میدان اللؤلؤة میں عوام کے دھرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس دھرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام اپنے مطالبات پر امن انداز سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے پارلیمان سے شیعہ اراکین کے اسعتعفوں کے بارے میں کہا کہ استعفے دینا شیعہ اراکین کا کم از کم اقدام تھا؛ ویسے بھی پارلیمان کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

صبح 01:00 بجے ـ  میدان اللؤلؤة میں 15 ہزار افراد کا دھرنا

رات کی آخری پہر تک میدان میں ایک لاکھ افراد نے اجتماع کیا ہوتا تھا لیکن رات میدان میں گذارنے کے لئے 15ہزار افراد اکٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ نوعمر افراد میدان میں ہی سوئے ہوئے ہیں جبکہ دھرنا دینے والے ایک شخص نے کہا: یوں محسوس ہوتا ہے کہ بڑی عمر کے لوگ اجتماعی دعا اور مناجات کی تیاری کررہے ہیں۔

صبح 01:30 شہید کے جلوس جنازہ میں شرکت کی تیاریاں

بحرین کے ہزاروں افراد دوسرے شہید "شہید فاضل المتروک" جو کل شہید عبدالہادی المشیمع کے جلوس جنازہ پر تشدد کے نتیجے میں شہید ہوئے تھے، کے جلوس جنازہ میں شرکت کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

صبح 02:00 نہ شیعہ نہ سنی

احتجاج کرنے والوں نے پلے کارڈز پر یہ نعرے درج کئے ہیں کہ "نہ شیعہ نہ سنی؛ ہم سب بحرینی ہیں"۔ وہ اپنے احتجاجات کو مذہبی نہیں سمجھتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کا قیام بحرینی ملک و قوم کی مفاد کے لئے ہے۔

صبح 02:30 بجے بحرینی حاکم کا قصر

روزنامہ ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ ایسے حال میں جبکہ بحرین شدید مالی اور معاشی بحران کا سامنا کررہا ہے بحرین کے وزیر اعظم نے لندن میں ایک محل خریدا ہے جس کی قیمت 43 میلین پانچ لاکھ پونڈ (5,958,728,989۔80) (پانچ ارب پچانوے کروڑ سات لاکھ اٹھائیس 989 روپے اسی پیسے) ہے۔  

اس رپورٹ کے مطابق شیخ خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ ـ جنہوں نے کچھ عرصہ لندن میں تعلیم بھی حاصل کی ہے ـ نے حال ہی میں بلیک ووڈ رہائش محل کی خریداری کے لئے تقریبا چھ ارب روپے ادا کئے ہیں۔ یہ قصر کارن وال کے علاقے میں موجود آٹھ محلوں میں پہلے درجے کا محل ہے جو لندن کے قریب ریجنٹز پارک کے ساتھ واقع ہے۔

ایک ہزار مربع میٹر میں بنے اس قصر میں 6 بیڈرومز، 4 ڈرائنگ رومز، ایک سپورٹس کلب، ایک سوئمنگ پول اور گھوڑوں کا ایک اصطبل ہے۔

صبح 8:45 بجے میدان اللؤلؤة میں انتظار

ہزاروں افراد منامہ کی میدان اللؤلؤة میں دھرنا کئے بیٹھے ہیں اور دوسرے شہید کے جلوس جنازہ کا انتطار کررہے ہیں۔

صبح 9:30 بجے ـ دوسری شہید کا جنازہ اتھا

شہید المتروک کل پہلے شہید کے جنازے کے جلوس میں شہید ہوئے تھے اور آج بحرینی بادشاہی خاندان کے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے ان کے جنازے کے جلوس میں شرکت کی۔

صبح 9:45 بجے ـ پولیس غائب ہے

شاہی استبداد و استحصال کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شہید ہونے والے شہید فاضل المتروک کا جلوس جنازہ جاری ہے لیکن پولیس کا کہیں اتہ پتہ نہیں ہے گویا پولیس کو کل کے تشدد کی وجہ سے جلوس کے قریب جانے سے روک دیا گیا ہے۔

صبح 10:00 بجے ـ بحرین میں ہڑتال

دارالحکومت کے عوام کی اکثریت نے کام کاج اور دفتر اور اداروں میں حاضر ہونے سے اجتناب کیا ہے اور ان کا کہنا ہے وہ جلوس جنازہ میں شرکت اور میدان اللؤلؤة میں موجودگی کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔

صبح 10 :10 بجے ـ میدان اللؤلؤة کی جانب عزیمت

ہزاروں بحرینی شہید المتروک کے جلوس جنازہ میں شریک تھے اور ہزاروں دیگر میدان اللؤلؤة کی جانب رواں دواں ہیں۔

صبح 10:20 بجے ـ بحرینی عوام کا مطالبہ "بنیادی تبدیلیاں"

بحرین میں انسانی حقوق کی ایک کارکن نے بتایا: کل کی ریلیوں پر بحرینی حکومت کے پرتشدد اقدامات کے بعد بحرینی عوام نے اپنے مطالبات میں بحرین میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ شامل کیا ہے۔

نبیل رجیب نے کہا: بحرینی بادشاہ کی کل کی تقریر بہت تأخیر سے سامنے آئی اور ایک نہایت اہم تبدیلی یہ